حماس کے عروج کی کہانی: اسرائیلی پالیسی اور ’سٹریٹیجک بلو بیک‘
1970 اور 1980 کی دہائیوں میں مشرق وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی رونما ہوئی۔ سیکولر قوم پرستی کے زوال کے ساتھ اسلام پسند سیاست نے زور پکڑا۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں مصر، شام اور اردن کی شکست نے اس تبدیلی کو مزید تیز کیا۔
اس دور میں مغربی طاقتیں اسلام پسندی کو سوویت یونین کے حمایت یافتہ سیکولر اور قوم پرست عرب نظاموں کے مقابل ایک ممکنہ توازن کے طور پر دیکھتی تھیں۔ فلسطین میں بھی اس حکمت عملی کے اثرات نمایاں ہوئے، جہاں اسرائیل کے خلاف مزاحمت زیادہ تر سیکولر اور بائیں بازو سے وابستہ فلسطینی تنظیموں کے ہاتھ میں تھی۔
فرانسیسی محقق ژاں پیئر فیلیو کے مطابق اسرائیل نے فلسطینی مزاحمت کو تقسیم اور کمزور کرنے کے لیے غزہ میں اخوان المسلمون سے وابستہ اسلامی تحریکوں کے فروغ کو برداشت کیا۔ شیخ احمد یاسین نے 1970 کی دہائی میں غزہ میں مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا اور 1973 میں المجمع الاسلامی کی بنیاد رکھی۔

اس وقت فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) یاسین کی تحریک کو زیادہ تر سماجی اور مذہبی سرگرمیوں تک محدود سمجھتی تھی۔ 1979 میں اسرائیلی فوجی انتظامیہ نے المجمع الاسلامی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا، جس کے بعد اسے غزہ میں مساجد، اسکول اور طبی مراکز قائم کرنے کی اجازت ملی۔ 1978 میں غزہ میں ایک اسلامی یونیورسٹی کے قیام کی بھی اجازت دی گئی، جو بعد میں اسلامی تحریک کے لیے اہم مرکز بن گئی۔
خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب سے آنے والی مالی امداد نے بھی یاسین کے سماجی نیٹ ورک کو مضبوط کیا۔ بعد میں اسرائیلی فوج کے سابق حکام کے بیانات اور مختلف تحقیقی حوالوں سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ اس دور میں یاسین کی سرگرمیوں کو PLO کے مقابل ایک سیاسی توازن کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
تاہم یہ حکمت عملی بالآخر اسرائیل کے لیے ایک سنگین سٹریٹیجک مسئلہ بن گئی۔ 1984 میں یاسین کے گھر سے اسلحہ برآمد ہونے کے بعد انہیں گرفتار کرکے 12 سال قید کی سزا سنائی گئی، لیکن 1985 میں انہیں رہا کردیا گیا۔
دسمبر 1987 میں پہلی انتفاضہ شروع ہوئی تو صورتحال تیزی سے تبدیل ہوگئی۔ یاسین اور ان کے ساتھیوں نے المجمع الاسلامی کے نیٹ ورک کو مسلح مزاحمتی تنظیم میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ 1988 کے آغاز میں تنظیم نے حماس کے نام سے اپنا منشور جاری کیا۔
یوں ایک ایسی مذہبی و سماجی تحریک، جس کا ابتدائی کردار مذہبی تبلیغ اور سماجی خدمات تک محدود تھا، مسلح مزاحمت کی تنظیم میں تبدیل ہوگئی۔ حماس نے سیکولر فلسطینی قوم پرستی کے بجائے اسلامی ریاست کے قیام اور اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت کو اپنی سیاست کا مرکزی حصہ بنایا۔
1989 میں اسرائیل نے حماس کو غیر قانونی قرار دے کر احمد یاسین کو دوبارہ گرفتار کیا، لیکن اس وقت تک تنظیم غزہ میں مضبوط بنیادیں قائم کرچکی تھی۔
1990 کی دہائی کے بعد بھی اسرائیل کی جانب سے حماس کو فلسطینی سیاسی تقسیم کے تناظر میں استعمال کرنے کی حکمت عملی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
خصوصاً 2009 سے 2023 کے دوران قطر سے غزہ میں مالی رقوم کی منتقلی کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے برداشت یا سہولت فراہم کیے جانے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مضمون کے مطابق اس پالیسی کا ایک مقصد حماس کو غزہ میں برقرار رکھنا اور فلسطینی قیادت کو حماس اور مغربی کنارے میں موجود فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تقسیم رکھنا تھا۔
2019 میں بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ جو لوگ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا چاہتے ہیں، انہیں حماس کو مضبوط کرنے کی حمایت کرنی چاہیے۔
تاہم 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے نے اس حکمت عملی کے نتائج پر شدید سوالات اٹھا دیے۔ اس کے بعد اسرائیل میں بھی یہ بحث سامنے آئی کہ حماس کو طویل عرصے تک محدود رکھنے اور اسے فلسطینی سیاسی تقسیم کے ایک عنصر کے طور پر دیکھنے کی پالیسی نے خطرات کو کم کرنے کے بجائے بڑھا دیا۔
اسرائیلی انٹیلی جنس اور فوج کو مبینہ طور پر حماس کے حملے کے منصوبے سے ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل آگاہی حاصل تھی۔ بعض تجزیہ کاروں نے اس بات کو محض غفلت یا غلط اندازے کے بجائے دانستہ طور پر نظرانداز کیے جانے سے بھی جوڑا، تاہم یہ ایک متنازع تجزیاتی دعویٰ ہے اور اس کے بارے میں حتمی طور پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطینی سیکولر قوم پرستی، خصوصاً PLO، کو کمزور کرنے کے لیے اسلامی دھارے کو برداشت یا تقویت دینے کی طویل المدت حکمت عملی بالآخر اس کے برعکس نتیجے کا باعث بنی۔ ایک سماجی و مذہبی نیٹ ورک سے ابھرنے والی حماس بعد میں اسرائیل کے خلاف ایک طاقتور مسلح تنظیم بن گئی۔ “strategic blowback” یعنی اپنی ہی حکمت عملی کے الٹے نتائج حاصل ہوئے ۔



