پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی، سالانہ اربوں ڈالر کی روئی درآمد

زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کو ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر سال اربوں ڈالر مالیت کی روئی درآمد کرنا پڑتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کپاس کی پیداوار میں کمی کسی تکنیکی خامی کا نتیجہ نہیں بلکہ کسانوں کو مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث وہ دیگر زیادہ منافع بخش فصلوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سالانہ تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ بیلز کپاس درکار ہوتی ہے، جبکہ ملکی پیداوار کم ہو کر 50 سے 60 لاکھ بیلز تک رہ گئی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو ہر سال تقریباً 4 ارب ڈالر تک کی روئی درآمد کرنا پڑتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کپاس کی ایسی اعلیٰ اقسام موجود ہیں جن کی کاشت کے ذریعے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر کے مطابق کپاس کی پیداوار میں کمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متبادل فصلیں کسانوں کے لیے زیادہ منافع بخش ثابت ہو رہی ہیں، جس کے باعث انہوں نے کپاس کی کاشت کم کردی ہے۔
زرعی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ قیمتی زرمبادلہ بچانے کے لیے ایسی مؤثر پالیسی اور منصوبہ بندی کی جائے جس سے کسانوں کو کپاس کی مناسب اور منافع بخش قیمت مل سکے اور انہیں دوبارہ کپاس کی کاشت کی طرف راغب کیا جا سکے۔



