نسل پرستانہ آن لائن حملوں کے باعث کوکو گاف نے ووہان اوپن سے دستبرداری اختیار کرلی

امریکی ٹینس سٹار کوکو گاف نے کہا ہے کہ آن لائن نسل پرستانہ تبصروں اور پیغامات نے انہیں ذہنی طور پر تھکا دیا، جس کے بعد وہ چین اوپن کے پری کوارٹر فائنل میں شکست کھا گئیں اور اگلے ہفتے ہونے والے ووہان اوپن سے بھی دستبردار ہوگئیں۔
بیجنگ میں بدھ کو کھیلے گئے میچ میں عالمی نمبر 4 کوکو گاف کو بیلجیئم کی ایلیس مرٹنز نے 3-6، 3-6 سے شکست دی۔ گاف نے میچ کے دوران 8 ڈبل فالٹس کیے اور اپنی معمول کی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکیں۔
میچ کے بعد گاف نے آن لائن نسلی تعصب پر مبنی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال کافی تھکا دینے والی تھی، تاہم وہ اپنا فون بند کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
گاف کو ایک روز قبل چینی کھلاڑی سن شِن ران کے خلاف کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر شدید نسل پرستانہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گاف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ لوگ ان سے اختلاف کرسکتے ہیں یا انہیں ناپسند کرسکتے ہیں، لیکن نسل پرستانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
واقعے کے بعد ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (WTA) نے گاف کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے خلاف ہونے والی نسل پرستانہ زیادتی پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس معاملے میں کارروائی کے لیے متعلقہ مواد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب گاف نے تھکن کا حوالہ دیتے ہوئے ووہان اوپن سے دستبرداری اختیار کرلی۔ وہ گزشتہ سال کی ووہان اوپن چیمپئن ہیں۔ گاف نے کہا کہ طویل سیزن کے بعد ان کے جسم کو آرام اور صحت یابی کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔
ایلیس مرٹنز نے گاف کو شکست دے کر چین اوپن کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی، جہاں ان کا مقابلہ عالمی نمبر 2 ایگا سوئیٹیک سے ہوگا۔
سوئیٹیک نے امریکا کی نوجوان کھلاڑی ایوا جووک کو 6-1، 6-3 سے شکست دی۔
ادھر چین کی ژینگ چِن وین نے بھی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ارمنیا کی الینا چراوایوا کو 6-1، 2-6، 6-4 سے شکست دی۔ عالمی نمبر 54 ژینگ کا کوارٹر فائنل میں یوکرین کی چھٹی سیڈ ایلینا سویٹولینا سے مقابلہ ہوگا۔
ژینگ نے کامیابی کے بعد شائقین کا شکریہ ادا کیا۔ آن کورٹ انٹرویو کے دوران انہیں یاد دلایا گیا کہ اگلے روز ان کی 24ویں سالگرہ ہے، جس پر انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ کامیابیاں ان کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے سامنے آئی ہیں۔



