latest newsPolitics

خیبرپختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن، اسلام آباد پر حملہ ہوا تو دفاع کریں گے: خواجہ آصف

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج حکومت کا آخری آپشن ہوگا اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اس نوبت تک نہ پہنچا جائے۔ تاہم، اگر کوئی راستہ باقی نہ بچا تو وفاقی حکومت اسلام آباد کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ گورنر راج سے متعلق حتمی فیصلہ حالات اور دستیاب آپشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ حکومت گورنر راج سمیت تمام آئینی اور قانونی راستوں پر غور کر رہی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہر چند ماہ بعد دارالحکومت پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر اسلام آباد پر حملہ کیا گیا تو حکومت کو اپنے دفاع اور تحفظ کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور طالبان کے درمیان روابط کے حوالے سے شواہد موجود ہیں۔ یہ ایک حکومتی دعویٰ ہے، جس کی آزادانہ طور پر تصدیق ان ذرائع سے نہیں ہوئی۔

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے معاملے سے لاتعلقی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی جاری ہے جبکہ وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ سیاسی لانگ مارچ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم فیصلے کرنے کا وقت آچکا ہے اور پورے صوبے کو سیاسی کشیدگی کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔

وزیر دفاع نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں 6 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پانچ افراد کے قتل کا حوالہ بھی دیا، جن میں دو کسٹمز اہلکار شامل تھے، اور الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے واقعے پر مناسب ردعمل نہیں دیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں کسی بھی صورت چڑھائی نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں صوبائی حکومت کی عمل داری نہیں ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کے معاملے پر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی پر آئینی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا۔

وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی کے دوران پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے دارالحکومت میں سکیورٹی سخت کی گئی ہے، جبکہ مارچ کے معاملے پر دونوں فریقوں کے درمیان سیاسی تناؤ برقرار ہے۔

موجودہ صورتحال میں گورنر راج سمیت آئینی و قانونی آپشنز پر غور اور اسلام آباد میں احتجاجی قافلے کو داخل ہونے سے روکنے کے حکومتی بیانات نے وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی مزید نمایاں کردی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button