column and articlelatest news

ادبِ افریقا کے نوبیل چراغ : ڈورس لیسنگ : سوالوں، تضادات اور یادوں کی لفظوں میں تلاش

افریقی ادب کے نوبیل چراغ سلسلے میں ایک ایسی ادیبہ کا ذکر آتا ہے جس کی زندگی اور تخلیقی تجربے کی جڑیں افریقی سرزمین میں پیوست تھیں، اگرچہ ان کی پیدائش افریقا سے باہر ہوئی۔ ڈورس لیسنگ (Doris Lessing) کو 2007ء میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔ نوبیل کمیٹی نے انہیں ایسی ادیبہ قرار دیا جس نے شکوک، جوش اور بصیرت کے ساتھ منقسم تہذیب کا جائزہ لیا اور خصوصاً عورت کے تجربے کو ادبی اظہار کی ایک وسیع صورت عطا کی۔

ڈورس لیسنگ 22 اکتوبر 1919ء کو کرمان شاہ، فارس، موجودہ ایران میں ڈورس مے ٹیلر کے نام سے پیدا ہوئیں۔ ان کے والد برطانوی فوج میں خدمات انجام دے چکے تھے اور بعد ازاں بینک سے وابستہ ہوئے، جبکہ والدہ نرس تھیں۔ 1925ء میں ان کا خاندان بہتر معاشی امکانات کی امید میں جنوبی روڈیشیا، موجودہ زمبابوے، منتقل ہو گیا اور ایک فارم پر رہائش اختیار کی۔ یہی افریقی ماحول بعد میں لیسنگ کی شخصیت، فکر اور ادب کا بنیادی حوالہ بن گیا۔

ان کا بچپن بظاہر ایک نوآبادیاتی خاندان کے ماحول میں گزرا، لیکن اس ماحول میں رہتے ہوئے انہوں نے افریقی معاشرے، نسل، غربت، طبقاتی فرق اور نوآبادیاتی نظام کے تضادات کو قریب سے دیکھا۔ خود ان کی تحریروں میں افریقا محض پس منظر نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ بن کر سامنے آتا ہے۔

لیسنگ نے رسمی تعلیم کا سلسلہ کم عمری میں چھوڑ دیا۔ نوبیل فاؤنڈیشن کے مطابق انہوں نے تقریباً 14 برس کی عمر میں اپنی رسمی تعلیم ختم کردی۔ اس کے بعد انہوں نے نرس میڈ، ٹیلی فون آپریٹر، دفتری ملازمہ، اسٹینوگرافر اور صحافی کے طور پر مختلف کام کیے اور ساتھ ساتھ لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ محدود رسمی تعلیم کے باوجود وہ خود مطالعے کے ذریعے اپنی فکری دنیا وسیع کرتی گئیں۔ افریقا میں گزارا ہوا بچپن اور وسیع مطالعہ بعد میں ان کے ادب میں ایک منفرد امتزاج پیدا کرتا ہے، جس میں ایک طرف زمینی اور سماجی حقیقت جبکہ دوسری جانب فلسفیانہ اور نفسیاتی سوالات ہیں۔

ڈورس لیسنگ کے لیے افریقا محض ماضی کی یاد نہیں تھا۔ جنوبی روڈیشیا کی زندگی نے ان کے اندر نسل، طاقت، غربت اور نوآبادیاتی تعلقات کے بارے میں ایسے سوال پیدا کیے جو ان کی ابتدائی تخلیقات میں نمایاں ہوئے۔

ان کا پہلا ناول The Grass is Singing 1950 ء میں شائع ہوا۔ اس ناول میں سفید فام کسان کی بیوی اور اس کے سیاہ فام ملازم کے درمیان تعلق کے ذریعے جنوبی روڈیشیا کے نسلی اور نوآبادیاتی معاشرے کی پیچیدگیوں کو سامنے لایا گیا۔ نوبیل کی سوانحی دستاویز اسے لیسنگ کے ناول نگار کی حیثیت سے آغاز کے طور پر بیان کرتی ہے۔

یہ ناول اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ لیسنگ نے نوآبادیاتی معاشرے کو کسی سادہ اخلاقی تقسیم میں محدود نہیں کیا بلکہ اس کے اندر موجود خوف، طاقت، محرومی اور انسانی کمزوریوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھا۔

لیسنگ کی ابتدائی ادبی شناخت کو مضبوط کرنے والی ایک اہم سلسلہ وار تخلیق Children of Violence ہے، جس کا مرکزی کردار مارتھا کویسٹ ہے۔ اس سلسلے میں افریقا، نوآبادیاتی معاشرہ، نوجوانی، سیاست، عورت کی آزادی اور فرد کی داخلی کشمکش ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔

یہ ناول محض ایک فرد کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی فکری اور سماجی تبدیلیوں کا آئینہ ہے ۔ لیسنگ نے اپنے افریقی تجربے کو ذاتی یادداشت سے بلند کرکے ایک وسیع انسانی اور سیاسی سوال میں تبدیل کیا۔

1962 ء میں شائع ہونے والا ناول The Golden Notebook ڈورس لیسنگ کے ادبی سفر کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس ناول میں عورت کی نفسیات، سیاست، جنس، تخلیقی عمل، کمیونزم اور روزمرہ زندگی کے تجربات کو ایک پیچیدہ ساخت میں پیش کیا گیا ہے۔ نوبیل فاؤنڈیشن کے مطابق یہ ناول 20ویں صدی میں مرد و عورت کے تعلق اور عورت کے تجربے کو سمجھنے والی اہم ادبی تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔

ناول کی خاص بات اس کا منفرد اسلوب ہے۔ مرکزی کردار اینا ولف اپنی زندگی اور تجربات کو مختلف نوٹ بکس میں تقسیم کرتی ہے۔ یوں قاری کو ایک ہی زندگی کے کئی متوازی پہلو دکھائی دیتے ہیں۔

یہ تکنیک اس بات کی علامت بھی ہے کہ انسانی شخصیت کسی ایک شناخت یا ایک نقطۂ نظر میں مکمل طور پر قید نہیں ہو سکتی۔ سیاست، محبت، جنس، تخلیق، خواب اور ذاتی تجربہ ایک دوسرے میں مسلسل مدغم رہتے ہیں۔

لیسنگ کو اکثر جدید نسائی ادب کی اہم آوازوں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن ان کا ادب صرف عورت کے حقوق تک محدود نہیں۔ وہ عورت کے تجربے کو وسیع انسانی، نفسیاتی اور سماجی تناظر میں دیکھتی ہیں۔ نوبیل انعام دیتے ہوئے سویڈش اکیڈمی نے انہیں ’’عورت کے تجربے کی رزمیہ نگار‘‘ قرار دیا۔

ان کی خواتین کردار روایتی کرداروں کی طرح صرف بیوی، ماں یا محبوبہ نہیں رہتیں بلکہ وہ اپنے وجود، آزادی، سیاست، جسم، ذہن اور معاشرتی مقام کے بارے میں سوال اٹھاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لیسنگ کی تحریریں مختلف ادوار میں بھی نئے معنی پیدا کرتی رہی ہیں۔

لیسنگ کی زندگی ادب کے ساتھ ساتھ سیاسی اور فکری سرگرمیوں سے بھی جڑی رہی۔ وہ ایک عرصے تک کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ رہیں اور جوہری ہتھیاروں کے خلاف مہم میں حصہ لیا۔ بعد میں ان کا فکری سفر مختلف نظریاتی اور روحانی راستوں سے گزرا۔ نوبیل کی سوانحی دستاویز بھی ان کی زندگی میں سیاسی سرگرمی، کمیونزم، جوہری ہتھیاروں کے خلاف جدوجہد اور بعد کے فکری رجحانات کا ذکر کرتی ہے۔ یہی تبدیلی ان کے ادب میں بھی نظر آتی ہے۔ وہ کسی ایک نظریے کو حتمی سچ ماننے کے بجائے مسلسل سوال اٹھانے والی مصنفہ رہیں۔

ڈورس لیسنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے خود کو صرف حقیقت پسند ناول نگاری تک محدود نہیں رکھا۔ ان کی Canopus in Argos: Archives سیریز نے سائنس فکشن کو نوآبادیات، جنگ، ماحولیاتی تباہی اور انسانی تہذیب جیسے بڑے موضوعات سے جوڑ دیا۔ نوبیل فاؤنڈیشن کے مطابق 1979ء سے 1984ء کے درمیان شائع ہونے والی اس سیریز میں جوہری جنگ کے بعد انسانی نسل کے مستقبل سمیت نوآبادیاتی نظام، ماحولیاتی بحران اور انسانی تعلقات جیسے موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں۔  یوں لیسنگ نے یہ ثابت کیا کہ ایک سنجیدہ ادیبہ کے لیے کسی ایک ادبی صنف کی حدود ضروری نہیں۔

لیسنگ نے بعد کی زندگی میں اپنے افریقی ماضی کی طرف دوبارہ دیکھا۔ ان کی کتاب African Laughter: Four Visits to Zimbabwe 1992ء میں شائع ہوئی، جس میں انہوں نے زمبابوے کے اپنے دوروں اور وہاں کی بدلتی ہوئی حقیقتوں کو بیان کیا۔

ان کا افریقا سے تعلق اسی لیے منفرد تھا کہ وہ نوآبادیاتی دور میں وہاں پلی بڑھی تھیں اور بعد میں آزادی کے بعد بدلتے ہوئے معاشرے کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔

2007ء کی نوبیل تقریر، جس کا عنوان On Not Winning the Nobel Prize تھا، میں بھی افریقا نمایاں طور پر موجود ہے۔ انہوں نے زمبابوے کے اسکولوں، کتابوں کی کمی، تعلیم کی مشکلات اور ایسے افریقی لکھنے والوں کا ذکر کیا جنہوں نے انتہائی محدود وسائل میں پڑھنا لکھنا سیکھا۔

یہ تقریر خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اس میں لیسنگ نے ادب اور تعلیم کے تعلق کو افریقی معاشرتی حالات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا۔

ڈورس لیسنگ کی ادبی دنیا بہت وسیع ہے۔ ان کی نمایاں کتابوں میں The Grass is Singing ، 1950 ،Martha Quest ، 1952 ،The Golden Notebook ،1962 ،The Summer Before the Dark ، 1973 ،Briefing for a Descent into Hell ، 1971 ،The Good Terrorist ، 1985 ،The Fifth Child ، 1988 ،African Laughter ، 1992 ،Under My Skin ،1994 ،Walking in the Shade ، 1997 ،The Sweetest Dream ، 2001 اور The Grandmothers، 2003 شامل ہیں۔ ان تصانیف سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا تخلیقی سفر ایک ہی موضوع یا صنف تک محدود نہیں تھا۔

2007 ء میں جب ڈورس لیسنگ کو ادب کا نوبیل انعام دیا گیا تو وہ عالمی ادب کی ایک طویل اور متنوع تخلیقی زندگی کا اعتراف تھا۔ نوبیل کمیٹی نے ان کے ادب میں عورت کے تجربے، تہذیبی تقسیم اور انسانی معاشرے کے پیچیدہ تضادات کو نمایاں اہمیت دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا نوبیل انعام محض The Golden Notebook جیسی ایک کتاب کے اعتراف تک محدود نہیں تھا۔ یہ تقریباً نصف صدی پر محیط ایسے ادبی سفر کی پذیرائی تھی جس میں افریقا، عورت، سیاست، نفسیات، جنگ، کمیونزم، روحانیت، مستقبل اور انسانی تہذیب مسلسل زیرِ بحث رہے۔

ڈورس لیسنگ کو افریقی ادب کے تناظر میں پڑھتے ہوئے ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے، ان کی شناخت افریقی نژاد مصنفہ کی نہیں بلکہ افریقا میں پرورش پانے والی برطانوی مصنفہ کی تھی۔ اس کے باوجود جنوبی روڈیشیا کا تجربہ ان کے تخلیقی شعور کا بنیادی حصہ بن گیا۔ ان کے ابتدائی ناولوں میں نسل اور نوآبادیاتی طاقت کے مسائل سے لے کر بعد کی تحریروں اور نوبیل تقریر تک افریقا بار بار واپس آتا ہے۔

ڈورس لیسنگ کے ہاں افریقا صرف ایک جغرافیہ نہیں؛ وہ یادداشت، شناخت، نوآبادیاتی تجربے، نسل، تعلیم، غربت اور انسانی تعلقات کا ایک وسیع استعارہ بن جاتا ہے۔

17 نومبر 2013ء کو لندن میں ان کا انتقال ہوا، لیکن ان کا ادبی ورثہ آج بھی عالمی ادب میں زندہ ہے۔ ڈورس لیسنگ کا چراغ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ ادب کبھی صرف اپنے لکھنے والے کی شناخت کا نام نہیں ہوتا، بعض اوقات ایک سرزمین انسان کے اندر اس طرح بس جاتی ہے کہ وہ پوری زندگی اس کے سوالوں، تضادات اور یادوں کو لفظوں میں تلاش کرتا رہتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button