latest newsWorld

چین کا شہر اولانقاب اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کا مرکز بننے لگا، بہاولپور کے لیے بھی مواقع

چین کے شمالی علاقے اندرونی منگولیا کا شہر اولانقاب اور پاکستان کے جنوبی علاقے بہاولپور بظاہر ایک جیسے خشک موسم، وسیع کھلے میدانوں اور ریتلی زمین کے حامل ہیں، تاہم دونوں خطوں کی ترقی کی سمت مختلف ہے۔ بہاولپور ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم اور جدت کے نئے مواقع تلاش کر رہا ہے، جبکہ اولانقاب توانائی، موزوں موسم اور جغرافیائی خصوصیات کی بدولت کمپیوٹنگ پاور اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

اولانقاب کے ڈیٹا سینٹرز کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ قدرتی وسائل اور توانائی کے حوالے سے پہچانا جانے والا یہ شہر چین کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ شہر کو چین کی قومی حکمت عملی ’’ایسٹ ڈیٹا، ویسٹ کمپیوٹنگ‘‘ میں شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے مغربی علاقوں میں زمین، توانائی اور موسم کی موزونیت سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ پیش رفت ایک اہم سوال اٹھاتی ہے کہ کیا بہاولپور جیسے خشک علاقوں میں توانائی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو یکجا کرکے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں؟

چہار ہائی ٹیک زون کے اقتصادی بیورو سے وابستہ ژانگ شیاؤلیانگ کے مطابق اولانقاب میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے کئی موزوں خصوصیات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اندرونی منگولیا کا اپنا بجلی کا نظام ہے، جبکہ نسبتاً کم لاگت پر بجلی کی دستیابی، بیجنگ سے قربت، ٹھنڈا موسم اور جغرافیائی و ارضیاتی حالات بھی اس شعبے کے لیے فائدہ مند ہیں۔

اولانقاب میں کمپیوٹنگ پاور اور صاف توانائی کو یکجا کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ چہار ہائی ٹیک ڈویلپمنٹ زون میں سینٹرین ڈیٹا کا کمپیوٹنگ پاور کلسٹر اندرونی منگولیا کے قومی کمپیوٹنگ مرکز کا حصہ ہے۔ کمپنی نے متعدد بڑے ڈیٹا سینٹرز کے منصوبے بنائے ہیں، جبکہ ہوا، شمسی توانائی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو یکجا کرنے والے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق اندرونی منگولیا کے ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی 85 فیصد سے زائد بجلی صاف توانائی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ ماڈل ظاہر کرتا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کو مصنوعی ذہانت جیسے توانائی کے زیادہ استعمال والے شعبوں کے ساتھ کس طرح منسلک کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (آئی یو بی) کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کے مطابق پاکستان کے لیے اصل سبق صرف بڑے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کرنا نہیں بلکہ کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر کو جامعات، تحقیق، صنعت، توانائی اور انسانی وسائل کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپیوٹنگ کی صلاحیت کو قابلِ اعتماد توانائی، تحقیقی اداروں، جامعات، صنعت اور تربیت یافتہ افراد سے منسلک کرنا ضروری ہے، تاکہ ٹیکنالوجی کو عملی اور معاشی فوائد میں تبدیل کیا جا سکے۔

ان کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت جدید ٹیکنالوجیز پر توجہ بڑھا رہی ہے۔ یونیورسٹی نے مختلف شعبوں میں اے آئی سے متعلق تعلیم متعارف کرائی ہے، مصنوعی ذہانت کی تحقیق و ترقی کے لیے لیبارٹری قائم کی ہے اور 2026 میں کوانٹم کمپیوٹنگ کا جدید پروگرام بھی شروع کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد کامران کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ تعاون صرف آلات کی فراہمی یا انفرادی منصوبوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے ذریعے پاکستانی جامعات میں تحقیقی صلاحیت، ہنرمند افرادی قوت اور صنعت کے ساتھ روابط کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اولانقاب اور بہاولپور کے معاشی حالات، توانائی کے نظام اور صنعتی ڈھانچے مختلف ہیں، اس لیے چین کے ماڈل کو جوں کا توں پاکستان میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اولانقاب کی مثال یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ قدرتی وسائل اور جغرافیائی فوائد کو انفرااسٹرکچر اور معاشی ضروریات سے جوڑ کر ترقی کے نئے راستے کیسے کھولے جا سکتے ہیں۔

بہاولپور کے لیے مستقبل کے امکانات اس بات سے وابستہ ہو سکتے ہیں کہ اس کی جامعات، نوجوان آبادی، تحقیقی اداروں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو قومی اور عالمی ڈیجیٹل نیٹ ورکس سے کس حد تک منسلک کیا جاتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button