latest newsPoliticsWorld

برازیل میں صدارتی انتخابات، پولنگ ختم؛ لولا اور فلاویو بولسونارو میں سخت مقابلہ

برازیلیا: برازیل میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ ختم ہوگئی، جہاں ووٹرز نے طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ صدارتی انتخاب میں بائیں بازو کے موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا اور دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔

80 سالہ لولا نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ عوام کے سامنے انتخاب جمہوریت اور ’’بربریت‘‘ کے درمیان ہے، جبکہ 45 سالہ فلاویو بولسونارو نے کہا کہ وہ ’’برازیل کے عوام کو آزاد‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔

ابتدائی نتائج کے مطابق 90 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے۔ فلاویو بولسونارو کو 48.05 فیصد جبکہ لولا ڈا سلوا کو 43.97 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ تاہم کسی بھی امیدوار نے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کیے۔

برازیل کی سپیریئر الیکٹورل کورٹ کے مطابق 15 کروڑ 87 لاکھ سے زائد برازیلی ووٹرز انتخاب میں حصہ لینے کے اہل تھے، جن میں بیرونِ ملک مقیم تقریباً 10 لاکھ ووٹرز بھی شامل ہیں۔

اگر کوئی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کرسکا تو صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ 25 اکتوبر کو ہوگا۔ لولا کے مدمقابل 11 امیدوار میدان میں ہیں، تاہم ابتدائی نتائج میں لولا اور بولسونارو کے علاوہ دیگر امیدواروں کا مجموعی حصہ تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ کے باعث حتمی نتائج چند گھنٹوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ انتخابی نتائج برازیل کی سینیٹ کی آئندہ تشکیل کا بھی تعین کریں گے، جہاں 81 میں سے 54 نشستوں پر انتخاب ہورہا ہے۔

برازیل کی سیاست پر گزشتہ صدارتی انتخاب کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ چار سال قبل لولا نے سابق صدر جائر بولسونارو کو معمولی فرق سے شکست دی تھی۔ بعد ازاں جائر بولسونارو کو بغاوت کی سازش کے جرم میں 27 سال قید کی سزا سنائی گئی اور انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا گیا۔

جائر بولسونارو اس وقت صحت کے مسائل کے باعث جیل کے بجائے گھر میں نظر بند ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے اور عوامی بیانات دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ تاہم فلاویو بولسونارو کو اپنے والد کی حمایت حاصل ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button