محسن نقوی: 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کیے

لاہور(عمران اسلم) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا اور معاہدے کا مسودہ بھی تیار کرلیا گیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حتمی مرحلے میں اسے مسترد کرکے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کردیا۔
پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے کہا کہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے نیک نیتی سے مذاکرات کیے اور ایک دو نکات کے علاوہ تقریباً تمام معاملات طے پا گئے تھے۔ ان کے مطابق معاہدے کا مسودہ صدر مملکت کو دکھایا گیا اور وزیراعظم کو بھی مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا، تاہم ڈرافٹ میں چار مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر فیصلے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ہی کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معلوم ہوتا کہ خیبرپختونخوا حکومت مذاکرات کو ویٹو کردے گی تو حکومت مذاکرات شروع ہی نہ کرتی۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ اب اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی صورت 9 مئی جیسے واقعے کو دوبارہ نہیں ہونے دے گی اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ احتجاج کی اجازت ہے، تاہم اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔



