سائبیریا کی انسدادِ طاعون لیبارٹری میں مبینہ انفیکشن، خاتون محقق ہلاک

سائبیریا: روس کے علاقے سائبیریا میں انسدادِ طاعون کی ایک تحقیقی لیبارٹری میں مبینہ طور پر خطرناک انفیکشن پھیلنے کے بعد 28 سالہ خاتون محقق ہلاک ہوگئی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق واقعہ ارکتسک کے قریب شہر شیلیخوف میں واقع انسدادِ طاعون کے تحقیقی ادارے میں پیش آیا۔
روس کے ریاستی ادارے روسپوٹری بیناڈزور کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ لیبارٹری میں کون سا انفیکشن پھیلا۔ ہلاک ہونے والی خاتون میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہونے والے نمونیا کی تشخیص ہوئی تھی۔
حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ارکتسک کے علاقے اور شیلیخوف شہر میں صورتحال معمول کے مطابق ہے، جبکہ واقعے کے پیش نظر خصوصی احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
احتیاطی تدابیر کے تحت لیبارٹری کے قریب واقع ایک ایلومینیم پلانٹ کی انتظامیہ نے ملازمین کو ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے۔
پلانٹ کے ڈائریکٹر آرٹم فومینیخ نے عوام کو افواہوں پر توجہ نہ دینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والی محقق سے قریبی رابطے میں رہنے والے افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور اب تک ان کے لیبارٹری ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
دوسری جانب، غیر سرکاری رپورٹس اور علاقائی خبر رساں ادارے لیوڈی بائیکالا کے مطابق، شیلیخوف کے اس اسپتال میں تقریباً 200 افراد کو زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے جہاں متاثرہ خاتون کو علاج کے لیے لایا گیا تھا۔
تاحال انفیکشن کی نوعیت اور اس کے پھیلاؤ کی وجوہات کے بارے میں حتمی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔



