latest newsPolitics

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، ڈیڈلاک برقرار

اسلام آباد(ہم شہری) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے، جبکہ فریقین کے درمیان اہم معاملات پر ڈیڈلاک برقرار ہے۔ مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان اسپیکر چیمبر سے روانہ ہوگئے۔

اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کے رکن علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر بات ہوئی، تاہم فریقین کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کے ذاتی معالج تک رسائی کا معاملہ حل نہیں ہوسکا۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات کے دوران دہشت گردی، نیشنل ایکشن پلان اور ان علاقوں میں فوجی آپریشن سے متعلق بھی اپوزیشن کے تحفظات سامنے رکھے گئے جہاں لوگ بے گھر ہیں۔

ان کے مطابق حکومتی وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ فی الحال وہ عمران خان سے ملاقات کرانے کی پوزیشن میں نہیں، تاہم ان کی بہنوں اور وکلا کی ملاقات کا سلسلہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔

اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کے رکن بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو امید تھی کہ دونوں فریق کسی مشترکہ نتیجے تک پہنچنے کے لیے آگے بڑھ سکیں گے۔

دوسری جانب حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔ ان کے مطابق فی الحال مذاکرات کے اگلے دور کا کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے خدشات سنے اور مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، جبکہ اپوزیشن نے لانگ مارچ سمیت دیگر معاملات پر معاہدے سے انکار کردیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button