latest newsPakistan

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت اور فیصلے

رپورٹ: مبشرحسن

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی منظوری کے بعد ترمیمی ججز روسٹر جاری،لاہور ہائیکورٹ پرنسپل سیٹ پر11 ڈویژن بینچ سول اور فوجداری اپیلوں پر 5 اکتوبر سے سماعت کرینگے، 28 سنگل بینچ حکم امتناعی، ضمانت، اندراج مقدمہ سمیت دیگر اہم کیسز کی سماعت کریں گے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ تمام نوعیت کی اپیلوں پر سماعت کرے گا،جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ بنکنگ، کمرشل اپیلوں پر سماعت کرے گا،جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نیب، دہشت گردی کیسوں کی سماعت کرے گا،جسٹس فیصل زمان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سول اپیلوں پر سماعت کرے گا،جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ قتل سمیت فوجداری اپیلوں پر سماعت کرے گا،جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں رکنی بینچ منشیات اور قتل کیسوں کی سماعت کرے گا،جسٹس صادق محمود خرم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ قتل، منشیات اور فوجداری اپیلوں پر سماعت کرے گا،جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سول اپیلوں پر سماعت کرے گا،جسٹس حسن نواز مخدوم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ ٹیکس ریفرنسز پر سماعت کرے گا،جسٹس وقار حیدر اعوان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سول اپیلوں پر سماعت کرے گا،جسٹس خالد اسحاق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ ٹیکس ریفرنسز اور بنکنگ اپیلوں پر سماعت کرے گا،ترمیم شدہ ججز روسٹر 31 اکتوبر تک نافذ العمل رہے گا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد عثمان غنی رشید چیمہ نے قرار دیا ہے کہ نابالغ بچوں کا نان و نفقہ حاصل کرنے کا حق والدین یا سرپرست کی رضامندی سے معاف، ترک یا کم نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے فیصلہ کالعدم قرار دے کرنئے سرے سے سماعت کیلئے کیس فیملی کورٹ کو واپس بھجوا دیا،عدالت نے ہدایت کی کہ فیملی کورٹ بچوں کی ضروریات، مفاد اور والد کی مالی حیثیت و سماجی مرتبے کو مدنظر رکھتے ہوئے نان و نفقہ کا معاملہ نئے سرے سے طے کرے،عدالت کو بتایا گیا کہ فیملی کورٹ نے 24 جنوری 2026 کے فیصلے میںنابالغ بچی اور اس کے چھوٹے بھائی کا نان و نفقہ والدہ کی رضامندی کی بنیاد پر 30 ہزار روپے ماہانہ فی کس مقرر کیا تھا، جس کے خلاف اپیل بھی 26 مارچ 2026 کو ڈسٹرکٹ جج سرگودھا نے خارج کر دی تھی، وکیل خالد پرویز وڑائچ نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹ نے محض والدہ کے بیان کو بنیاد بنا کر غلطی کی اور بچوں کی ضروریات، فلاح و بہبود اور والد کی مالی حیثیت و سماجی مرتبے کا آزادانہ جائزہ نہیں لیا، 2012 میں پہلے سے طے شدہ مقدمے میں نان و نفقہ 50 ہزار روپے ماہانہ فی بچہ بمع 10 فیصد سالانہ اضافہ مقرر تھا، مگر والدہ نے عدالت کی اجازت کے بغیر بچوں کے مفاد کے برعکس بیان دے دیا جسے اپیلیٹ کورٹ نے محض رضاکارانہ بیان سمجھ کر برقرار رکھا،والد کے وکیل رائے محمد جاوید اقبال کھرل نے مؤقف اپنایا کہ یہ معاملہ فریقین کی باہمی رضامندی سے طے پایا تھا اور والدہ نے عدالت میں حلفاً بیان دے کر رقم کو قبول کیا تھا، اس لیے اب وہ اس سے منحرف نہیں ہو سکتیںاس لیے درخواست خارج کی جائے، عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ کا نان و نفقہ حاصل کرنے کا حق خود بچے کا ہے نہ کہ والدین یا سرپرست کا اور والدہ محض سرپرست کی حیثیت رکھتی ہے، وہ اس حق کی مالک نہیں بن سکتی، اس لیے اسے یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ بچے کے حقِ نان و نفقہ کو معاف، ترک یا کم کر سکے،بچوں کے حقوق کسی تجارتی اشیاء کی طرح والدین کے باہمی تنازعات میں تبادلے یا سودے بازی کے قابل نہیں، اور فیملی کورٹ پر یہ لازمی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ والدین کے مابین طے پانے والے کسی بھی معاہدے کو بچوں کے حقیقی مفاد کی روشنی میں آزادانہ طور پر جانچے، محض رضامندی کی بنیاد پر فیصلہ کرنا فیملی کورٹ کی اپنی قانونی ذمہ داری سے پہلوتہی کے مترادف ہے،عدالت نے مزید قرار دیا کہ نابالغ کی جانب سے سرپرست کوئی بھی سمجھوتہ عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں کر سکتا، اور بغیر اجازت کیا گیا ایسا معاہدہ نابالغ کے خلاف کالعدم تصور ہوگا، نان و نفقہ کا تعین کرتے وقت والد کی مالی استعداد اور سماجی حیثیت کا آزادانہ جائزہ لینا ضروری تھا، چاہے فریقین میں رضامندی موجود بھی ہو،عدالت نے واضح کیا کہ ایک بار معاملہ عدالت میں آ جانے کے بعد سرپرست نابالغ کے حقوق بالخصوص نان و نفقہ کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا اگر وہ بچے کے مفاد کے خلاف ہو، والدہ کا رضامندی بیان جس سے بچی اپنے والد سے نان و نفقہ کے حق سے محروم ہوئی، صریحاً غیر قانونی تھا، والدین آپس میں معاہدہ کر سکتے ہیں مگر وہ اپنے بچے کے حق پر سودے بازی نہیں کر سکتے، نان و نفقہ کے معاملات میں بچے کی فلاح والدین کی رضامندی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

لاہورہائیکورٹ، آتشزدگیوں کے واقعات روکنے کے لئے درخواست سماعت کیلئے مقرر،چیف جسٹس عالیہ نیلم 6 اکتوبر کو جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کریں گی،عدالت نے این ڈی ایم اے سیکرٹری صحت پنجاب اور ہسپتالوں کے ایم ایس نے جواب داخل کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے،درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ بلڈنگ کوڈ اور فائر ایکٹ پر عمل نہ ہونے سے عمارتوں میں آگ لگنے کےواقعات ہورہے ہیں،ایمرجنسی ہیلی کاپٹر سروس شروع نہ ہونے سے کئی جانیں ان حادثات کی نظرہوئیں۔

لاہورہائیکورٹ، کیمرے لگی عینکوں پر پابندی سے متعلق درخواست سماعت کیلئے مقرر،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم 8 اکتوبر کو سماعت کریں گی،عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ،وزارت تجارت اور وزارت اطلاعات سے جواب طلب کر رکھا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ، ڈی جی ایف آئی اے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر،چیف جسٹس عالیہ نیلم 5 اکتوبر کو سماعت کریں گی، عدالت نے ایف آئی اے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔

لاہورہائیکورٹ، مانگا منڈی میں شیخاں والا قبرستان جانیوالی خستہ حال سڑک کی تعمیر کیلئے درخواست دائر، احمد عبدللہ ڈوگر ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ شیخاں والا قبرستان جانے والی سڑک کئی سال سے خستہ حالی کا شکار ہے، بارش کے دوران قبرستان جانے والی سڑک دلدل کی شکل اختیار کر لیتی ہے، قبرستان تک رسائی کیلئے پختہ سڑک کی تعمیر عوامی اہمیت کا معاملہ ہے، سڑکوں اور شہری انفراسٹرکچر کی تعمیر مقامی حکومت کی ذمہ داری ہے، استدعا ہے کہ مانگا منڈی شیخاں والا قبرستان جانے والی سڑک تعمیر کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں، عدالت حکام کو درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا بھی حکم دے۔

لاہور ہائیکورٹ،پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف ترمیمی درخواست دوبادہ دائر، محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ پی ٹی آئی نے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ،ہر شہری کو احتجاج یا دھرنا دینے کا آئینی حق حاصل ہے ،پنجاب بھر میں غیر قانونی طور پر دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button