ادبِ افریقا کے نوبیل چراغ : وولے سوینکا : مزاحمت، شناخت اور انسانی آزادی کی آواز
خالد منصور

ایشیا کے نوبیل چراغوں کے بعد اب اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم افریقہ کے ادبی منظرنامے میں داخل ہوتے ہیں، جہاں لفظ صرف اظہار نہیں بلکہ مزاحمت، شناخت اور انسانی آزادی کی آواز بھی بنے۔ اسی براعظم سے ایک ایسی توانا آواز ابھری جس کی گونج عالمی ادب کے ایوانوں تک پہنچی۔

افریقہ کے ادبی منظرنامے میں اگر ان شخصیات کا ذکر کیا جائے جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے مقامی تہذیب، انسانی آزادی، سیاسی جبر اور نوآبادیاتی تاریخ کو عالمی ادب کا حصہ بنایا، تو وولے سوینکا کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ وہ شاعر، ڈرامہ نگار، ناول نگار، مضمون نویس، اداکار اور استاد ہیں۔ 1986ء میں انہیں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے افریقی ادیب بنے۔ نوبیل کمیٹی نے ان کے بارے میں کہا کہ وہ وسیع ثقافتی تناظر اور شاعرانہ اثرات کے ساتھ انسانی وجود کے ڈرامے کو تخلیق کرتے ہیں۔
وولے سوینکا 13 جولائی 1934ء کو نائجیریا کے شہر ابی اوکوٹا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق یوروبا برادری سے تھا اور یوروبا تہذیب، اساطیر، رسومات اور لوک روایات نے ان کی فکری اور ادبی تشکیل میں گہرا کردار ادا کیا۔ ان کے والد ایک سکول کے پرنسپل اور اینگلیکن پادری تھے جبکہ ان کی والدہ ایک دکان چلاتی تھیں اور خواتین کی آزادی کی تحریک سے بھی وابستہ تھیں۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم نائجیریا میں حاصل کی اور بعد ازاں یونیورسٹی آف لیڈز، برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔ برطانیہ میں قیام کے دوران انہوں نے لندن کے رائل کورت تھیٹر میں ڈرامامہ کے شعبہ سے وابستہ ہو کر عملی تھیٹر کا تجربہ حاصل کیا۔ 1960ء میں وہ نائجیریا واپس آئے تاکہ افریقی ڈرامے کا مطالعہ اور اس کی ترقی کے لیے کام کر سکیں۔
سوینکا کی ادبی شناخت بنیادی طور پر ایک ڈرامہ نگار کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ انہوں نے مغربی تھیٹر کی تکنیکوں کو افریقی ثقافت، موسیقی، رقص، دیومالا اور روایتی ڈرامائی عناصر کے ساتھ جوڑا۔ ان کے ڈراموں میں یوروبا اساطیر بالخصوص اوگن کا تصور بار بار سامنے آتا ہے۔ اوگن یوروبا روایت میں لوہے، جنگ، تخلیق اور تباہی سے وابستہ دیوتا ہے۔

1960 ء میں سوینکا نے دی 1960 ماسک کے نام سے تھیٹر گروپ قائم کیا اور 1964ء میں اوریسن تھیٹر کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ان اداروں کے ذریعے انہوں نے اپنے ڈرامے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اداکاری اور تھیٹر کی ہدایت کاری بھی کی۔
سوینکا کے ڈراموں کی دنیا بہت وسیع ہے۔ ان کے ابتدائی اور اہم کاموں میں The Swamp Dwellers، The Lion and the Jewel، The Trials of Brother Jero، A Dance of the Forests، The Strong Breed، The Road، Kongi’s Harvest، Madmen and Specialists اور Death and the King’s Horseman شامل ہیں۔

The Lion and the Jewel سوینکا کا معروف مزاحیہ ڈراما ہے۔ اس میں روایتی افریقی معاشرے اور جدیدیت کے درمیان کشمکش کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ڈرامے میں باروکا روایتی طاقت اور تجربے کی علامت ہے، جبکہ لاکنلے مغربی طرز کی جدیدیت کی نمائندگی کرتا ہے۔
سوینکا یہاں صرف روایت یا جدیدیت میں سے کسی ایک کو سادہ طور پر قبول نہیں کرتے بلکہ دونوں کے تضادات اور پیچیدگیوں کو طنز و مزاح کے ذریعے سامنے لاتے ہیں۔ اسی لیے یہ ڈراما افریقی معاشرے میں بدلتی ہوئی اقدار کو سمجھنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ نوبیل کے سوانحی مواد میں بھی اسے سوینکا کے ابتدائی اہم ڈراموں میں شمار کیا گیا ہے۔

A Dance of the Forests ان کے اہم ترین ڈراموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈراما افریقی ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان تعلق کو اساطیری اور علامتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ نوبیل کمیٹی نے اس ڈرامے میں افریقی روایتی رسومات، ارواح، دیوتاؤں اور مغربی ڈرامائی روایت کے امتزاج کی نشاندہی کی۔ اس میں اوگن کا کردار بھی اہم ہے۔

سوینکا کے سب سے زیادہ معروف ڈراموں میں Death and the King’s Horseman کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ یہ 1975ء میں شائع ہوا اور یوروبا معاشرے کے ایک تاریخی واقعے سے متاثر ہے۔ اس کا بنیادی مسئلہ موت، روایت، روحانی ذمہ داری اور نوآبادیاتی مداخلت کے باہمی تصادم سے پیدا ہوتا ہے۔
ڈرامے میں بادشاہ کا گھڑ سوار ایک روایتی رسم کے تحت اپنی جان قربان کرنے والا ہوتا ہے، لیکن نوآبادیاتی انتظامیہ اس رسم میں مداخلت کرتی ہے۔ نتیجتاً فرد، معاشرہ، روایت اور نوآبادیاتی طاقت کے درمیان شدید کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ نوبیل کمیٹی نے اسے ایک ایسی المیہ تخلیق قرار دیا جس کا مرکز رسمی قربانی اور زندہ، مردہ اور ابھی پیدا نہ ہونے والوں کے باہمی تعلق کا تصور ہے۔
وولے سوینکا کا ادب محض جمالیاتی تجربہ نہیں بلکہ اپنے معاشرے کے سیاسی اور اخلاقی مسائل سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ نائجیریا میں سیاسی جبر اور بدعنوانی کے خلاف ان کی آواز نمایاں رہی۔ نائجیریا میں خانہ جنگی کے دوران انہوں نے جنگ بندی کی اپیل کی۔ 1967ء میں انہیں بغاوت کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور تقریباً 22 ماہ تک سیاسی قیدی کے طور پر قید رکھا گیا۔ ان کا یہ تجربہ بعد میں ان کی تحریروں میں بھی ظاہر ہوا۔

ان کی کتاب The Man Died: Prison Notes اسی قید کے تجربے سے پیدا ہونے والی اہم نثری تخلیق ہے۔ اس میں قید، انسانی آزادی، خوف، مزاحمت اور ذہنی بقا کے تجربات نمایاں ہیں۔ نوبیل کمیٹی نے بھی اسے ان کی اہم نثری تخلیقات میں شمار کیا ہے۔ اگرچہ سوینکا کو بنیادی طور پر ڈرامہ نگار کے طور پر شہرت ملی، لیکن ان کی شاعری بھی ان کے ادبی مقام کا اہم حصہ ہے۔
ان کے شعری مجموعوں میں Idanre and Other Poems ، Poems from Prison ،A Shuttle in the Crypt ، Ogun Abibiman ، Mandela’s Earth and Other Poems خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
A Shuttle in the Crypt میں قید کے دوران لکھے گئے اشعار شامل ہیں۔ ان نظموں میں تنہائی، ذہنی بقا، انسانی تعلق، غصے، معافی اور آزادی کی خواہش جیسے احساسات نمایاں ہیں۔ سوینکا نے ناول نگاری میں بھی اپنا منفرد مقام بنایا۔ ان کے اہم ناولوں میں The Interpreters اور Season of Anomy شامل ہیں۔ The Interpreters میں نائجیریا کے تعلیم یافتہ طبقے اور بدلتے ہوئے افریقی معاشرے کے مسائل کو پیش کیا گیا ہے، جبکہ Season of Anomy میں سیاسی و سماجی انتشار اور انسانی تجربے کو علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

ان کی تنقیدی کتاب Myth, Literature and the African World افریقی ادب اور ثقافت کو سمجھنے کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں انہوں نے افریقی اساطیر، ادب، ثقافت اور مغربی ادبی تصورات کے باہمی تعلق پر بحث کی۔
سوینکا کی تحریروں کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ افریقی ثقافت کو محض پس منظر کے طور پر استعمال نہیں کرتے بلکہ اسے اپنی تخلیقی فکر کا بنیادی حصہ بناتے ہیں۔ یوروبا دیومالا، مذہبی رسومات، لوک روایات، موسیقی، رقص اور اجتماعی یادداشت ان کے فن میں بار بار سامنے آتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی تحریروں میں یونانی المیہ، یورپی تھیٹر اور جدید مغربی ادب کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہی امتزاج ان کے فن کو ایک ایسا عالمی رنگ دیتا ہے جس میں مقامی اور عالمی دونوں سطحیں بیک وقت موجود رہتی ہیں۔
سوینکا بنیادی طور پر انگریزی میں لکھتے ہیں، لیکن ان کی انگریزی محض مغربی ادبی روایت کی نقل نہیں۔ وہ اس زبان میں یوروبا محاورات، تصورات، علامتوں، ثقافتی حوالوں اور مقامی اسلوب کو داخل کرتے ہیں۔نوبیل کمیٹی نے ان کی زبان کو الفاظ اور اظہار کے غیر معمولی ذخیرے، طنزیہ مکالموں، شعری کیفیت، مزاح اور پیچیدہ اسلوب کے امتزاج کے حوالے سے نمایاں کیا تھا۔
وولے سوینکا کو ادب کا نوبیل انعام ملا تو یہ اعزاز صرف ایک ادیب کی ذاتی کامیابی نہیں تھا بلکہ افریقی ادب کی عالمی ادبی شناخت کے حوالے سے بھی ایک اہم سنگِ میل تھا۔ نوبیل کمیٹی نے ان کے ادب میں افریقی ثقافتی جڑوں، شاعرانہ قوت، ڈرامائی اظہار اور انسانی وجود کے پیچیدہ مسائل کو نمایاں قرار دیا۔

اگر وولے سوینکا کے پورے ادبی کام کو چند بڑے موضوعات میں تقسیم کیا جائے تو ان میں یہ عناصر نمایاں نظر آتے ہیں۔ (آزادی) فرد اور معاشرے کی آزادی ان کے ادب کا مرکزی سوال ہے۔ (سیاسی جبر) طاقت کے غلط استعمال، آمریت اور سیاسی بدعنوانی پر وہ شدید تنقیدی نظر رکھتے ہیں۔ (نوآبادیات) ان کے کئی کام افریقہ کی نوآبادیاتی تاریخ اور اس کے معاشرتی اثرات سے مکالمہ کرتے ہیں۔ (ثقافت اور شناخت) افریقی روایت اور جدید دنیا کے درمیان تعلق ان کے ہاں بار بار سامنے آتا ہے۔ (روایت اور جدیدیت) وہ اس سوال کو اٹھاتے ہیں کہ جدیدیت کے سفر میں معاشرہ اپنی ثقافتی شناخت کے ساتھ کس طرح زندہ رہ سکتا ہے۔(زندگی اور موت) یوروبا اساطیر اور رسومات کے ذریعے زندگی، موت اور روحانی دنیا کے باہمی تعلق کو اہمیت ملتی ہے۔ (انسانی وقار) ان کے ہاں انسان کا حقِ آزادی اور وقار سیاسی اور سماجی طاقت سے بڑا سوال بن جاتا ہے۔
وولے سوینکا کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ نوبیل انعام حاصل کرنے والے پہلے افریقی ادیب تھے، بلکہ اس میں ہے کہ انہوں نے افریقی تجربے کو اپنی مخصوص ثقافتی زبان اور فکری روایت کے ساتھ عالمی ادب کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے تھیٹر کو محض تفریح نہیں رہنے دیا بلکہ اسے معاشرے کے آئینے، سیاسی سوالات کے اظہار اور انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا ذریعہ بنایا۔ ان کے ہاں افریقہ محض ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب، تاریخی تجربہ اور مسلسل سوال کرنے والی انسانی دنیا ہے۔
نوبیل فاؤنڈیشن کے مطابق سوینکا نے ڈرامے، ناول، شاعری، مضامین اور دیگر اصناف میں چالیس سے زائد تخلیقات پیش کی ہیں، جن میں سے بہت سی دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ اور تھیٹر میں پیش کی جا چکی ہیں۔ یوں وولے سوینکا کا قلم افریقہ کی مٹی سے اٹھ کر عالمی انسان کے مسائل تک پہنچتا ہے اور یہی ان کے ادب کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔



