
رینگتے ہوئے ٹائروں کے درمیاں
نیا ٹی ہاؤس جنم لے رہا ہے
ٹی ہاؤس
جو کبھی اے حمید کی خواب سرا تھا
لوگ ہاتھوں میں گلاب کی ڈالیاں تھامے
ناصر کاظمی کے سینے پہ پاؤں رکھے
مبارک باد کے منتظر ہیں
ایک عمر سے نیلے گنبد کی دکانوں کو
توسیع کا عارضہ لاحق ہے
ہمارے ریزہ ریزہ خوابوں کو
صارفیت کی دیمک کھا رہی ہے
میری آنکھیں
جس فرنیچر کے خد و خال سے مانوس تھیں
وہ چوبرجی کے کباڑی کی دکان پر پڑا
اپنی دربدری پر آنسو بہاتا ہے
تپتے ہوئے فٹ پاتھ پر بیٹھے شاعر
سروں میں خاک ڈال رہے ہیں
نئے ٹی ہاؤس میں
مجھے اس پرانی کرسی کی تلاش ہے
جس کے دیمک زدہ وجود میں
منٹو کا لمس رینگتا ہے
یہیں وہ میز تھی جس کے کنارے
سہیل احمد خان کا سگار
بجھے دنوں کے ڈھیر میں پڑا سلگتا تھا
اور میز کے دوسرے کونے میں
مظفر علی سید کی انگلیوں کے نشان ہیں
میں یونس جاوید کے شانے پہ سر رکھے
اس میز کے فراق میں گریہ کرتا ہوں
پرانے ٹی ہاؤس کے وسط میں پڑی میز میرا تعاقب کرتی ہے
جس کے پائے کے ساتھ بندھا زاہد ڈار
اپنی ریزہ ریزہ محبت سے وفاداری کا عہد نبھا رہا ہے
اس میز کے گم گشتہ کونے میں
انتظار حسین کے ماتھے کی تیوڑیاں پڑی ہیں
انتظار حسین جو مسمار ہوتی ہوئی بستی کا آخری آدمی تھا
میں اس اجنبی جزیرے کی کنارے کھڑا
(شناسائی کی لَو سے دمکتے)
اختر شمار کے چہرے کی تلاش میں ہوں
میرے سامنے
شعیب بن عزیز کی قیادت میں
نوحہ گر ادیبوں کا جلوس گزر رہا ہے
ٹی ہاؤس میں پھول بانٹے والے ادیبوں کی جگہ
محبت کرنے والے جوڑے لے چکے
ادیب چھپکلیوں کی طرح دیواروں میں رینگتے ہیں
باقی ماندہ ادیبوں کو
بیٹھنے کے لیے ایک نشست میسر نہیں
نئی نسل کی خوابوں سے عاری آنکھیں
مَرے ہوئے چہروں کو
اجنبیت کی اوٹ سے دیکھتی ہیں
ٹی ہاؤس کی دیوار پر آویزاں
میں نے جاوید شاہین کی تصویر کو دیکھا
میری آنکھوں کو گریہ بہا کر لے گیا
جاوید شاہیں
جو آدھا میرے دل میں
اور باقی منو بھائی کے پہلو میں دفن ہے
نئے ٹی ہاؤس کے خوش پوش ویٹرز کو دیکھ کر
الٰہی بخش کی یاد کے خنجر نے
میرا سینہ چھید ڈالا
الٰہی بخش
جس کے میلے ایپرن سے اپنائیت کی بو آتی تھی
یہیں وہ سنہرا ستوں تھا
جس کے سائے میں بیٹھا امانتِ علی خان
اپنے سُروں کے لافانی رنگوں سے
شام کی راگنیوں کے سراپے تخلیق کرتا تھا
اور بل کھاتے زینے کے کنارے اسرار زیدی کی قبر تھی
جس کا بُجھتا ہوا چراغ
میرا جی کے انتظار میں پڑا اُونگھتا ہے
ٹی ہاؤس کی بالائی منزل پر
بسترِ مرگ پر پڑا حلقہ اربابِ ذوق
غافر شہزاد کی راہ دیکھتا ہے
اتوار کے روز سرِ شام
چند ڈرے سہمے ادیب
دم توڑتے حلقے کو خون کا عطیہ دینے آتے ہیں!



