محمد رضوان آن لائن بیٹنگ اور پیکا ایکٹ کی انکوائری میں این سی سی آئی اے میں پیش

لاہور(عمران اسلم) قومی کرکٹر محمد رضوان آن لائن بیٹنگ اور پیکا ایکٹ کے تحت جاری انکوائری کے سلسلے میں لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر میں پیش ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے کی چار رکنی تحقیقاتی ٹیم نے محمد رضوان سے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے پوچھ گچھ کی۔ ٹیم میں ایک ڈپٹی ڈائریکٹر اور تین انسپکٹرز شامل تھے، جنہوں نے آن لائن بیٹنگ اور پیکا ایکٹ کے تحت جاری انکوائری سے متعلق سوالات کیے۔
محمد رضوان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ نوٹس کے مطابق این سی سی آئی اے پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت انکوائری کررہی ہے، جبکہ ادارے نے ضبط کیے گئے موبائل فون کے فرانزک معائنے اور تجزیے کے لیے بھی محمد رضوان سے تعاون طلب کیا ہے۔
محمد رضوان اس سے قبل بھی این سی سی آئی اے میں پیش ہوچکے ہیں۔
این سی سی آئی اے دفتر سے روانگی کے موقع پر میڈیا نے ان سے انکوائری اور الزامات سے متعلق سوالات کیے۔ محمد رضوان نے کہا کہ ان سے ہی پوچھیں کہ انکوائری کس معاملے پر ہورہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں این سی سی آئی اے سے ’’بہت پیار ملا ہے‘‘۔
دفتر کے باہر ایک مداح نے محمد رضوان کے ساتھ سیلفی کی خواہش کا اظہار کیا تو کرکٹر نے اپنا موبائل کیمرہ مین کے حوالے کرکے مداح کے ساتھ تصویر بنوائی اور اسے موبائل واپس لینے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر جب محمد رضوان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں اپنا موبائل واپس مل گیا ہے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’اس وقت میں گونگا ہوں‘‘ اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔



