خیبر پختونخواہ کا بحران اور صدر زرداری کا مدبرانہ کردار ۔۔۔ تضادم نہیں مفاہمت
سید امجد بشیر بخاری, بہاولپور

پاکستان میں جب بھی سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے، نظریں ایوان صدر کی طرف اٹھتی ہیں، اور صدر آصف علی زرداری ایک بار پھر ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اس ملک کے سب سے معاملہ فہم اور مفاہمتی سیاستدان ہیں۔
آئین میں "گورنر راج” کا نام "صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ – آرٹیکل 232، 234 اور 235” ہے۔ اٹھارہویں ترمیم، جو خود صدر زرداری کا تاریخی کارنامہ ہے، نے اس اختیار کو وزیر اعظم ہاؤس کی صوابدید سے نکال کر پارلیمنٹ کے پاس رکھ دیا، تاکہ کوئی بھی حکومت سیاسی انتقام کے لیے اسے استعمال نہ کر سکے۔
آج خیبر پختونخواہ میں وفاق اور صوبے کے درمیان شدید تناؤ کے باوجود، اگر ملک انتشار سے بچا ہوا ہے تو اس کا سہرا صدر زرداری کی دانشمندی کو جاتا ہے۔
صدر زرداری کا کردار – آگ بجھانے والا
یکم اور دو اکتوبر کو جب کچھ حلقوں کی جانب سے گورنر راج کی تجویز پر اصرار کیا گیا، تو صدر زرداری نے دو ٹوک الفاظ میں اسے مسترد کر کے مذاکرات کا راستہ چنا۔ کراچی سے اسلام آباد تک، انہوں نے واضح پیغام دیا کہ طاقت کا استعمال آخری آپشن ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔
ایوان صدر میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں صدر زرداری نے ہی یہ تجویز دی کہ 4 اکتوبر کے احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے گورنر راج جیسے انتہائی قدم کے بجائے قومی مفاہمت کا راستہ اپنایا جائے۔ یہی جمہوری سوچ ہے جس نے ماضی میں بھی ملک کو بڑے بحرانوں سے نکالا۔
پیپلز پارٹی کا آئینی اور جمہوری موقف
پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کی طرح ذمہ دار جماعت ہونے کا ثبوت دیا۔ سیکرٹری جنرل نیر بخاری نے آئینی موقف واضح کیا کہ پارٹی ہر فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق کرے گی اور وفاق کو بہترین آئینی رہنمائی فراہم کرے گی۔ یہی وہ جماعت ہے جو جمہوریت کی مضبوطی پر یقین رکھتی ہے۔
گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی بھی صدر زرداری کے وژن کے مطابق تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو اشتعال سے بچنے کا مشورہ دے کر ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
آج دوپہر اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں حکومت کا چھ رکنی وفد جس میں رانا ثناء اللہ، محسن نقوی، شیری رحمن جیسے سینئر رہنما شامل ہیں، پی ٹی آئی سے مذاکرات کر رہا ہے – یہ کامیابی صدر زرداری کی مفاہمتی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔
ایسے وقت میں جب کچھ قوتیں ملک کو تصادم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں، صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی ملک میں استحکام، جمہوریت اور قومی یکجہتی کی ضمانت بنے ہوئے ہیں۔



