latest newsPakistan

ای پی اے کی ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کارروائیاں، 1,250 کلو ممنوعہ پولی تھین بیگز ضبط

لاہور (شیخ طاہر علی) پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف محکمہ تحفظ ماحولیات (ای پی اے) کی فیلڈ کارروائیاں جاری ہیں۔ لاہور میں تعمیراتی سائٹس اور باربی کیو پوائنٹس کا معائنہ کیا گیا، جبکہ سنگل یوز پلاسٹک قوانین کی خلاف ورزی پر سمن آباد میں گودام سیل کرکے 1,250 کلوگرام ممنوعہ پولی تھین بیگز ضبط کر لیے گئے۔

ڈی جی ای پی اے پنجاب عبداللہ نیئر شیخ نے ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات لاہور علی اعجاز کے ہمراہ گلبرگ میں تعمیراتی سائٹ کا معائنہ کیا، جہاں تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران مقررہ ایس او پیز اور ماحولیاتی معیارات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر آلودگی کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کی بھی جانچ کی گئی۔

ڈی جی ای پی اے اور ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات نے قصوری روڈ، گلبرگ میں مختلف باربی کیو پوائنٹس کا دورہ بھی کیا اور وہاں متعلقہ ایس او پیز سمیت ماحولیاتی تقاضوں کی پابندی کا معائنہ کیا۔

دوسری جانب کاہنہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) میں اضافے پر ماحولیاتی حکام نے علاقے کا دورہ کیا، جہاں رنگ روڈ کے قریب موضع طور وڑائچ میں ستھرا پنجاب کی ویسٹ ڈسپوزل سائٹ پر بڑے پیمانے پر کچرا جلتا پایا گیا۔ کچرا جلنے سے اٹھنے والے شدید دھوئیں نے وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حکام کے مطابق ویسٹ ڈسپوزل سائٹ سے اٹھنے والا دھواں کاہنہ میں اے کیو آئی بڑھنے کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہے۔

کچرے میں لگی آگ بجھانے کے لیے ریسکیو 1122 کی معاونت سے کارروائی جاری ہے، جبکہ ستھرا پنجاب کی مشینری بھی آگ بجھانے میں معاونت کر رہی ہے۔ ای پی اے لاہور کی ٹیمیں متاثرہ مقام اور دھوئیں کی صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق دھوئیں پر قابو پانے اور گردونواح میں فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

ادھر ای پی اے لاہور کے فیلڈ آفس نے سنگل یوز پلاسٹک ضوابط کی خلاف ورزی پر سمن آباد میں شاہ کمال روڈ پر واقع گلانی پلاسٹک گودام کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 1,250 کلوگرام ممنوعہ پولی تھین بیگز ضبط کر لیے اور گودام سیل کر دیا۔ ضبط کیے گئے بیگز کی موٹائی 75 مائیکرون سے کم تھی۔

پولی تھین بیگز کے خلاف کارروائی کی نگرانی ایکو واچ کے ذریعے کی گئی۔ محکمہ تحفظ ماحولیات کے مطابق ممنوعہ پلاسٹک بیگز کے استعمال اور کاروبار کے خلاف کارروائیاں ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے جاری ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button