
کسی بھی معاشرے کی فکری بالیدگی، تہذیبی وقار اور ترقی پسندانہ سوچ کا اندازہ اس کے کتب خانوں کی ویرانی یا آبادکاری سے لگایا جاتا ہے۔ وہ قومیں جو کتاب سے رشتہ توڑ لیتی ہیں، معلومات کے سیلاب میں بہہ تو سکتی ہیں مگر حکمت اور دانائی کے موتیوں سے محروم ہو جاتی ہیں۔
آج کا دور، جہاں موبائل اسکرینوں کا سحر اور سوشل میڈیا کے شارٹ کٹس ذہنوں پر مسلط ہیں، معلومات کا انفجار تو ہوا ہے مگر سچے علم اور گہرے مطالعے کی جگہ سطحی معلومات نے لے لی ہے۔ ایسے وقت میں اگر کسی صوبے کے لائبریری نظام سے مثبت تبدیلی، بیداری اور تعمیرِ نو کی خبریں آئیں، تو یہ تپتے صحرا میں ٹھنڈے پانی کے چشمے سے کم نہیں۔
حکومتِ پنجاب کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کے زیرِ انتظام ‘ڈائریکٹوریٹ آف پبلک لائبریریز پنجاب’ نے گزشتہ ۳ سالوں کے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں، وہ نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ مطالعے کی ثقافت کی بحالی کا روشن دیباچہ بھی ہیں۔ اس زبردست پیش رفت کے پسِ پردہ حکومتِ پنجاب کا مثبت کردار اور بالخصوص ڈائریکٹوریٹ کی فعال اور متحرک قیادت، ڈائریکٹر جنرل کاشف منظور کی انتھک کاوشیں شاملِ حال ہیں۔
اعداد و شمار کی روشنی میں: ایک نظرِ خوشگوار گزشتہ تین سالوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پنجاب کی 13 اہم پبلک لائبریریوں میں ہر سطح پر نمایاں اور متوازن ترقی نظر آتی ہے. رکنیت (ممبرشپ) میں اضافہ: تین سال پہلے لائبریریوں کے کل اراکین کی تعداد ۱ لاکھ 64 ہزار 196 تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ 78 ہزار 17 تک پہنچ چکی ہے۔ گویا 13 ہزار 821 نئے قارئین کا نظام میں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں تاریخی قائداعظم لائبریری، لاہور 73 ہزار 931 ارکان کے ساتھ سرِفہرست ہے، اور گورنمنٹ پنجاب پبلک لائبریری، لاہور 52,441 ارکان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، وہاں سب سے زیادہ خوش آئند بات چھوٹے شہروں اور تحصیلوں کا حصہ ہے۔ پبلک لائبریری کمالیہ میں ممبرشپ 50 فیصد، رضا فاروق میموریل لائبریری پیر محل میں 57 فیصد، اور لائبریری کمپلیکس مریدکے میں 43 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
کتب کے ذخیرے میں توسیع: لائبریریوں کے الماریوں کو آباد کرنے کے لیے 3 سال میں 65708 نئی کتابیں خریدی گئیں، جس کے بعد کل ذخیرہ 8 لاکھ 30 ہزار 619تک جا پہنچا ہے۔ گورنمنٹ پبلک لائبریری گڑھ مہاراجہ (جھنگ) اور لائبریری کمپلیکس مریدکے میں کتابوں کا ذخیرہ تین گنا بڑھ چکا ہے۔
قارئین کی آمد اور عوامی لگاؤ: سب سے حیرت انگیز پیش رفت لائبریریوں میں قارئین کی جسمانی آمد (Footfall) میں ہوئی۔ 3 سال قبل جہاں روزانہ اوسطاً 1995 زائرین آتے تھے، اب یہ تعداد 3285 ہو چکی ہے۔ سالانہ بنیادوں پر لائبریریوں میں آنے والوں کی تعداد 7 لاکھ 3 ہزار سے بڑھ کر 11 لاکھ 82 ہزار 600 تک پہنچ گئی ہے یعنی سالانہ 48 فیصد کا غیر معمولی اضافہ جدید نقطہ نظر اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع
محض پرانی عمارتوں پر اکتفا کرنے کے بجائے، حکومت پنجاب نے نئی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہوئے تین نئی لائبریریاں قائم کیں۔ پبلک لائبریری شرقپور، پبلک لائبریری روشن بھیلہ قصور، اور ای-لائبریری کمیونٹی سینٹر لاہور ای لائبریری کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف پبلک لائبریریز ٹیکنالوجی اور روایتی کتاب کے درمیان ایک مضبوط پل تعمیر کر رہا ہے۔
اب لائبریریاں محض کتابوں کی دکانیں یا سکوت کے گودام نہیں رہیں، بلکہ وہ فکری تبادلے، مباحثوں اور کمیونٹی کی سرگرمیوں کے فعال مراکز بن رہی ہیں۔”ایک سال، ایک کتاب”: قومی کتاب تحریک کا تاریخی اقدام اس تمام تر ادارہ جاتی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر جنرل لائبریریز پنجاب کاشف منظور نے ایک اور تاریخی پیش رفت کا آغاز کیا ہے۔
حال ہی میں قائد اعظم لائبریری لاہور میں پی ٹی وی کی نمائندہ وردہ سلیم سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی لائبریریز کاشف منظور نے ایک منفرد اور ملک گیر مہم ’’قومی کتاب تحریک ،نیشنل بک ریڈنگ مومنٹ‘‘ کا اعلان کیا۔ اس تحریک کا بنيادی اور خوبصورت نعرہ ’’ایک سال، ایک کتاب‘‘ ہے۔ کاشف منظور کا مؤقف تھا کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں گہرا مطالعہ کم ہو رہا ہے، کتاب ہی انسان کی سچی دوست اور فکری تبدیلی کا سب سے کارگر ذریعہ ہے۔ ان کا یہ وژن صرف اردو تک محدود نہیں بلکہ وہ نئی نسل کو تمام مقامی اور علاقائی زبانوں،پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی وغیرہ کے لوک ادب اور شاہکاروں سے جوڑنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
اس مہم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ بک کلبز کا قیام، "مصنف سے ملاقات” کے سیشنز، آن لائن کتابوں کے تعارف اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کو کتاب کی طرف واپس لایا جا رہا ہے۔ ایک روشن مستقبل کی امید حکومتِ پنجاب اور ڈی جی لائبریریز کاشف منظور کی یہ کاوشیں محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ یہ ایک قوم کی روح کو بیدار کرنے کی کوشش ہے۔
جب کسی صوبے کی تحصیل سطح کی لائبریریوں میں زائرین کی تعداد چار گنا بڑھ جائے، جب گڑھ مہاراجہ اور پیر محل کا طالب علم لائبریری کا رخ کرنے لگے، اور جب ریاستی سطح پر "ایک سال، ایک کتاب” جیسی فکر انگیز تحریک جنم لے تو یہ اس بات کا گواہ ہے کہ ہم بحیثیتِ قوم ایک بار پھر مطالعہ، شعور اور دانش کی طرف گامزن ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حکومتی و انتظامی پیش رفت کو عوامی سطح پر بھی سراہا اور سپورٹ کیا جائے، تاکہ پنجاب کے چپے چپے میں کتاب کے چراغ سے مزید چراغ جلتے رہیں۔



