
لاہورہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے4 اکتوبر کو پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس میں 4 افراد کی نظر بندیوں کے خلاف درخواستوں پرڈی سی سیالکوٹ سے رپورٹ طلب کرلی، نظر بند حسن بلال، محمد فیصل، عادل اور رانانذیر کے وکیل عرفان کلار نے موقف اپنایا درخواست گزاران کو تحفظات کی بنا پر چودہ دن کیلئے نظر بند کر دیا گیاہے،استدعا ہے کہ عدالت نظر بندی کے احکامات کالعدم قرار دے ۔
لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کیخلاف پی ٹی آئی رہنما شیخ امتیاز اور اعجاز شفیع کی درخواستوں پرسماعت، جسٹس فاروق حیدر نے وکیل کو فریقین کی فہرست میں ترمیم کی ہدایت کر تے ہوئے سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کردی،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ڈی جی رینجرز کا دفعہ 144 کے نوٹیفکیشن کے اجراء میں کوئی کردار نہیں، آپ پٹیشن میں مدعا علیہان کی فہرست میں ترمیم کریں، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پی ٹی آئی نے احتجاج اور دھرنے کی کال دی ،حکومت نے پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیا، احتجاج کرنا آئینی حق ہے دفعہ 144 کا نفاذ کرنا غیر قانونی ہے ،حکومت نے مخصوص خطرے والے اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کرنے کی بجائے پورے پنجاب میں نافذ کی ،پرامن احتجاج اور سیاسی سرگرمیاں پر پابندی بنیادی آئینی حقوق کے زمرے میں آتا ہے ،استدعا ہے کہ عدالت پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ معطل کرنے کا حکم دے ۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے EOBI ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی کا فیصلہ اور اپیلیٹ بورڈ کا حکم کالعدم قرار دیدیا،عدالت نے اضافی واجبات عائد کرنے کا کیس دوبارہ متعلقہ اتھارٹی کو بھجوا دیا،عدالت نے اتھارٹی کوکمپنی کو سن کر نئے سرے سے 2 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا، عدالت نےسکیورٹی آرگنائزنگ سسٹم پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست منظور کرلی،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ کی جانچ کے بعد قانونی شرائط پوری ہوں تو EOBI واجبات کا تعین کرسکتا ہے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ موجود ہو تو EOBI براہِ راست اسیسمنٹ نہیں کرسکتا، کمپنی کا ریکارڈ موجود تھا، EOBI نے پہلے ریکارڈ کی جانچ نہیں کی، کمپنی نے متعلقہ مدت کی ماہانہ EOBI کنٹری بیوشنز ادا کی تھیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے نظر بندی قانون کی دفعات 3 اور 16 کے خلاف آئینی درخواست پر صوبائی سیکرٹری قانون سمیت فریقین سے 10 روز میں رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو عدالتی حکم پر عمل درآمد کا کی ہدایت کردی،عبداللہ ملک نے درخواست میں موقف اپنایا کہ ایم پی او قانون میں شخصی آزادی سلب کرنے کے لیے واضح اور مؤثر حفاظتی ضمانتیں موجود نہیں، حفاظتی حراست فوجداری انصاف کا متبادل نہیں بن سکتی، بغیر شواہد اور معقول وجوہات کے کسی شہری کی آزادی سلب نہیں کی جا سکتی،ایم پی او کی دفعہ 16 میں اظہارِ رائے پر وسیع پابندیاں آئین سے متصادم ہیں ،خوف یا الارم اور عوامی نظم کے لیے مضر سرگرمی جیسی اصطلاحات کے قانونی معیار پر سوالات ہیں، استدعا ہے کہ عدالت ایم پی او کی دفعات 3 اور 16 کو بنیادی حقوق سے متصادم قرار دے کر کالعدم کرے۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس سلطان تنویر نے ریکارڈ فراہم نہ کرنے پرانکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل کا طاہر منیر کو 25ہزار جرمانہ کرنیکا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا، عدالت نے قرار دیا کہ واضح سزا کے بغیر ٹیکس جرمانہ عائد نہیں کیا جا سکتا ۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے وکیل کے بھائی کے قتل میں ملوث سابق ایس ایچ او تھانہ مصطفیٰ آباد قصور حسن عمران سمیت پانچ سابق پولیس ملازمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں، ملزمان کو کمرہ عدالت میں ہتھکڑیاں لگا نیکے بعد ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی،ملزمان کو لے جاتے ہوئے مدعی پارٹی کے وکلاء نے مبینہ حملہ کردیا اور ملزم ایس ایچ او پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کردی جس سے صورتحال کشیدہ ہوگئی، سکیورٹی حصار کے باوجود سابق سب انسپکٹر طارق پر مبینہ تشدد کیا گیا،وکیل نے موقف اپنایا کہ تفتیش میں پولیس ملازمین کو گناہگار قرار دیا گیا،دو ملزمان مفرور ہیں ،ہائیکورٹ سکیورٹی نے ملزمان کو تھانہ پرانی انارکلی پولیس کے حوالے کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس فاروق حیدر نے خالد حسین کی عمر قید اورپانچ لاکھ جرمانے کی سزا کالعدم قرار دیدی،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور گواہان کے بیانات سےملزم کا جرم ثابت نہیں ہوتا،مقتول کے وکیل الزام ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے گواہان کے بیانات میں تضاد ہونے کی بنیاد پر بچے کا گلہ کاٹنے کے کیس میں عمر قید کے ملزم احتشام کو بری کردیا،ملزم کو ٹرائل کورٹ نے 2024 میں عمر قید اور تین لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ، عدالت نے کہا الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی مواد پیش نہیں کیا گیا ۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے لاہور بورڈ کی جانب سے آئی سی ایس میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے کے باوجود اعلان نہ کرنے کے خلاف محمد نبیل انور کی درخواست پر چیئرمین لاہور بورڈ سے جواب طلب کر لیا،درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ دوسری پوزیشن اعلان نہ ہونے سے اسکالرز شپ نہیں مل رہی، استدعا ہے کہ عدالت لاہور بورڈ کو دوسری پوزیشن کے لیے نام کا اعلان کرنے کا حکم دے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے دو سال سے لاپتہ بچے علی حسن کو بازیاب کروا کر 27 اکتوبر کو پیش کرنیکا حکم دیدیا، عدالت نے ریمارکس دیئےکہ پولیس رپورٹ میں کافی خامیاں ہیں ان کی نشان دہی کی، عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا تو توہین عدالت کی کارروائی کس کیخلاف کرنا ہے، آئندہ سماعت آگاہ کریں، عدالت نے کہاایک ماں کا بچہ لاپتہ ہے ان شاءاللہ اسے بازیاب ہونا ہے، پہلے کیس کی تفتیش درست ہو رہی تھی ،افسر کا تبادلہ ہوا تو تفتیش کا منظر ہی بدل گیا، آئندہ سماعت پر کیس کے تفتیشی کی تبدیلی اثرات کے قانونی پہلوؤں بارے آگاہ کیجئے، گوجرانوالہ اور گجرات پولیس مغوی بچہ بازیاب نہیں کرسکی، کیا کیس کی تفتیش دونوں ڈویژنز سے باہر لے جانے سے پولیس کی غیر جانبداری ثابت ہوسکے گی،درخواست گزار نے عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس کی جانب سے ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی نئی کہانی بیان کی جاتی ہے، لہٰذا آئی جی پولیس کو عدالت میں طلب کیا جائے،دوران سماعت والدہ بیٹے کی جدائی میں زاروقطار روتی رہی۔
معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب برائے پبلک پراسیکیوشن رانا بلال احمد کی زیر صدارت محکمہ پراسیکیوشن کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس،اجلاس میں محکمہ کی مجموعی کارکردگی، جاری کیسز پر پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق فوری انصاف کا حصول یقینی بنانے کیلئے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عرفان تارڑ، ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن محمد اعظم سمیت دیگر افسران نے اجلاس میں شرکت کی،معاون خصوصی رانا بلال احمد کو کیس فلو مینجمنٹ سسٹم، پنجاب لیگل ایڈ ایجنسی ،انسپکشنز کے نظام اور دیگر محکمانہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،اجلاس میں عوام کی پراسیکیوشن سروسز تک آسان رسائی بارے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا،معاون خصوصی رانا بلال احمد نے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے فراہم کردہ قانونی معاونت بارے عوامی آگاہی یقینی بنانے کی ہدایت کی،پراسیکیوشن کو مزید موثر بنانے،قانون کی بالادستی اور مقدمات کی پیروی کے لیے مثالی اقدامات کئے جارہے ہیں،رانا بلال احمد نے کہا کہ انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق میرٹ پر مبنی پراسیکیوشن اور مظلوم کو فوری انصاف دلانا ہماری اولین ترجیح ہے۔



