latest newsPakistan

ایجوکیشن ایکسپو 2026: پاکستانی طلبہ کے لیے اسکالرشپس اہم ترجیح بن گئیں

کراچی: کراچی میں منعقدہ ایجوکیشن ایکسپو 2026 میں اسکالرشپس اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی کے انتخاب میں طلبہ کی اہم ترجیحات میں شامل رہیں۔ دی سٹی اسکول کے زیر اہتمام ایکسپو میں پاکستان سمیت برطانیہ، کینیڈا، ملائیشیا اور ترکی کی تقریباً 60 جامعات نے شرکت کی۔

ایکسپو میں مختلف مقامی اسکولوں کے بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی اور یونیورسٹی نمائندگان سے داخلوں، تعلیمی پروگرامز، کیریئر کے مواقع اور بیرون ملک تعلیم سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

دی سٹی اسکول کی ہیڈ آف کاؤنسلنگ، ایلومنائی اینڈ پلیسمنٹ رابعہ سہیل نے دی ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایکسپو میں پاکستان کی معروف جامعات کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، ملائیشیا اور ترکی کے تعلیمی اداروں نے بھی شرکت کی۔

ان کے مطابق مقامی جامعات میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA)، انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر (IVS) اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) سمیت اکاؤنٹنسی اور دیگر شعبوں کے ادارے شریک ہوئے۔

رابعہ سہیل نے کہا کہ ایکسپو کو طلبہ اور یونیورسٹی نمائندگان کی جانب سے مثبت ردعمل ملا۔ ان کے مطابق طلبہ کے لیے یونیورسٹی کے انتخاب میں اسکالرشپس ایک اہم عنصر ہیں اور مالی معاونت دستیاب ہونے کی صورت میں طلبہ مختلف ممالک میں تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مجموعی طور پر جنوبی ایشیا بین الاقوامی جامعات کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے، جبکہ ملک کی نوجوان آبادی کے باعث پاکستانی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

رابعہ سہیل کے مطابق پاکستانی طلبہ اب بھی انگریزی بولنے والے ممالک میں تعلیم حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم جرمنی، چین، ملائیشیا اور ترکی بھی پاکستانی طلبہ کے لیے ابھرتی ہوئی تعلیمی منزلیں ہیں۔

کینیڈین ہائر ایجوکیشن ایڈوائزر ہیلن خان نے بتایا کہ پاکستانی طلبہ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کا انتخاب کرتے وقت سب سے زیادہ اسکالرشپس، گریجویشن کے بعد روزگار اور مستقبل کے مواقع سے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں۔

ان کے مطابق طلبہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ تعلیم کے دوران بیرون ملک کام کرنے کے کتنے مواقع دستیاب ہوں گے اور گریجویشن کے بعد ملازمت حاصل کرنے کے امکانات کیا ہیں۔

ہیلن خان نے کہا کہ پاکستانی طلبہ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے پروگرامز میں خاصی دلچسپی پائی جاتی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت (AI)، مشین لرننگ اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبے بھی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

رابعہ سہیل کے مطابق متعدد بین الاقوامی جامعات اپنے نصاب میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسے پروگرامز شامل کر رہی ہیں۔

یونیورسٹی آف لیتھ برج کے مینیجر انٹرنیشنل ریکروٹمنٹ تسیرا لوانگا نے کہا کہ بیرون ملک تعلیم کے لیے طلبہ کی تیاری میں اسکولوں کا کردار اہم ہے۔

ان کے مطابق پاکستان سے آنے والے طلبہ عمومی طور پر تعلیمی میدان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کی کامیابی کی شرح بھی اچھی ہے۔

تسیرا لوانگا نے کہا کہ کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم نسبتاً مہنگی ہے، اسی لیے پاکستانی طلبہ اسکالرشپس کے بارے میں خصوصی طور پر معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض جامعات جزوی میرٹ اسکالرشپس فراہم کرتی ہیں جبکہ طلبہ کو تعلیم کے دوران کام کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) کے آؤٹ ریچ اینڈ کمیونیکیشن ڈپٹی منیجر سعد عالم انگاریہ نے مصنوعی ذہانت کے باعث مستقبل میں ملازمتوں سے متعلق خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ AI چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی جگہ لینے کے بجائے ان کے کام میں معاون ثابت ہوگی۔

ان کے مطابق آئی کیپ نے اپنے پروگرام کے آخری مرحلے میں AI اور ڈیٹا اینالیٹکس کو ایک مربوط ماڈیول کے طور پر شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی معاملات میں فیصلہ سازی کا بنیادی کردار انسان ہی کے پاس رہے گا جبکہ مصنوعی ذہانت معاون ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال ہوگی۔

دوسری جانب دی سٹی اسکول کے طلبہ میں سے طب کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے بعض طلبہ نے بھی AI اور روبوٹکس کی ترقی کے باعث مستقبل میں طبی شعبے اور سرجری پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔

ایجوکیشن ایکسپو کے دوران "Building Global Citizens: Inclusivity and Access” کے عنوان سے پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کے تعلیمی نظام، اسکولوں اور اساتذہ کو درپیش مسائل، عالمی شہریوں کی تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے طلبہ کے تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے طریقوں پر گفتگو کی گئی۔

پینل میں زندگی ٹرسٹ اور دربین کی ہیڈ آف کمیونیکیشنز طوبیٰ سلیم، آغا خان یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کی ڈین ڈاکٹر کلثوم غیاث، ہیومن ایکس کے سی ای او حسن طارق اور دی سٹی اسکول کی آپریشنز اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریحانہ افضل نے شرکت کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button