latest newsPoliticsWorld

امریکا ایران کشیدگی: ٹرمپ کی سخت کارروائی کی دھمکی، مذاکرات میں بھی تعطل

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے واقعے سے جوڑا گیا تو تہران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

صحافیوں کے سوال پر کہ آیا واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کی صورت میں امریکا جوابی کارروائی کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ’’بہت سخت‘‘ جواب دیا جائے گا۔ تاہم فلائی دبئی واقعے میں ایرانی مداخلت کے شواہد ابھی سامنے نہیں آئے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 دبئی سے تل ابیب جارہی تھی کہ کاک پٹ میں عملے کے دو ارکان کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ ایئرلائن کے مطابق عملے نے مداخلت کرکے طیارے کو محفوظ بنایا، جس کے بعد پرواز کا رخ سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا اور وہاں ہنگامی لینڈنگ کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق واقعے میں معاون پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا، تاہم زخمی کپتان کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا اور دیگر افراد نے حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کی۔ سعودی، اماراتی اور اسرائیلی حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

فلائی دبئی نے واقعے کے بعد اسرائیل کے لیے اور اسرائیل سے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کردی ہیں اور کہا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی ایران کے حوالے سے سخت مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے پہلے بھی چار سے چھ ہفتوں کی مدت کا ذکر کیا تھا اور ان کے مطابق یہ مرحلہ ایک رات میں مکمل ہوگیا، جبکہ باقی وقت اس صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔

ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کے امکان سے متعلق سوال پر بھی کہا کہ یہ ممکن ہے۔ انہوں نے خود کو ’’امن کا صدر‘‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے خلاف سخت کارروائی سے خطے میں امن قائم ہوسکتا ہے۔

ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مزید بمباری کے امکان سے متعلق سوال پر بھی اسے خارج از امکان قرار نہیں دیا، تاہم کسی مخصوص ہدف یا کارروائی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حوالے سے امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک آنے والے ایرانی وفد کو امریکا سے روانہ ہونے کا حکم دیا۔

امریکی حکام کے مطابق وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے اور یہ اقدام واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد کیا گیا۔ امریکی مشن نے مبینہ طور پر ایرانی مشن کو وفد کے فوری روانہ ہونے سے آگاہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق قطری ثالث دونوں فریقوں کے درمیان رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ممکنہ سمجھوتے کے لیے اختلافات کم کیے جاسکیں۔

تاہم ایرانی مشن نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفد کی نیویارک سے روانگی پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوئی اور اس شیڈول سے امریکی محکمہ خارجہ کو پہلے ہی آگاہ کیا گیا تھا۔

ادھر ایران اور روس کے درمیان بین الاقوامی معلوماتی سلامتی سے متعلق دوطرفہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ماسکو میں مشاورتی اجلاس ہوا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں نے سائبر سیکیورٹی منصوبوں، اہم انفراسٹرکچر اور مواصلاتی نیٹ ورکس کے تحفظ، سائبر جرائم کے خلاف کارروائی، سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے تربیت اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ساختہ خودکار زیرِ آب ڈرون REMUS 600 قبضے میں لینے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مذکورہ خودکار زیرِ آب گاڑی مبینہ طور پر جاسوسی سرگرمیوں میں مصروف تھی اور اسے ایک ’’پیچیدہ‘‘ کارروائی کے دوران قبضے میں لیا گیا۔ ایران کے مطابق ڈرون کو مزید جانچ اور ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ماہرین کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکا کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات بحال کرنے کی تجویز کے جواب میں واشنگٹن کا پیغام موصول ہوگیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق تہران نے ایسی تجویز پیش کی تھی جس کے تحت امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور ایران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اس تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران کو اس حوالے سے باضابطہ امریکی انکار موصول نہیں ہوا تھا۔

ایرانی حکام کے مطابق قطر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی منتقلی میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ دونوں جانب سے بعض اقدامات پر اتفاق کے باوجود انہیں کس ترتیب سے نافذ کیا جائے، اس پر اختلاف برقرار ہے۔

آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کے باعث تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ سمندری سیکیورٹی کے حوالے سے بھی متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button