بھارت کے مبینہ فالس فلیگ آپریشن کا دعویٰ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا

راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک مبینہ کارروائی کے دوران پاکستانی شہری اور سابق ایس ایس جی اہلکار محمد آصف کو ہلاک کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے انہیں میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔
بھارتی حکام اور میڈیا نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک کارروائی کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کو ہلاک کیا گیا ہے۔ بھارتی حکام نے اسے پاکستان سے تعلق رکھنے والا عسکریت پسند قرار دیا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 29 ستمبر کی رات بھارتی کور کی جانب سے سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیر میں مشترکہ سرچ آپریشن کی اطلاع دی گئی، جس میں ایک شخص کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ تقریباً ساڑھے سات گھنٹے بعد بھارتی فوج کی جانب سے ایک اور بیان جاری کیا گیا، جس میں ہلاک ہونے والے شخص کو لشکر طیبہ کا رکن اور محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ قرار دیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق بھارتی میڈیا میں محمد آصف کو پاکستان سے تعلق رکھنے والا شخص اور سابق ایس ایس جی اہلکار ظاہر کیا گیا، جبکہ اس حوالے سے سروس نمبر سمیت دیگر ذاتی معلومات بھی نشر کی گئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج اور حکومت کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات میں تضاد تھا۔ ان کے مطابق بھارت نے محمد آصف کو لشکر طیبہ کا کمانڈر قرار دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں کئی برس سے سرگرم اور متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا۔
بھارتی وزارت داخلہ نے بھی اپنے بیان میں ہاشم موسیٰ عرف آصف فوجی کو بڈگام میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ بھارتی میڈیا نے اسے لشکر طیبہ کا اہم کمانڈر قرار دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں محمد آصف کو صحافیوں کے سامنے پیش کیا۔ محمد آصف نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے علاقے پنڈی گھیب کے رہائشی ہیں اور اس وقت راولپنڈی میں مقیم ہیں۔
محمد آصف کے مطابق دوستوں نے انہیں سوشل میڈیا پر چلنے والی ان خبروں سے آگاہ کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتی فوج نے انہیں مقبوضہ کشمیر میں ہلاک کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت اپنے گھر میں موجود تھے اور خبر سن کر انہیں حیرت ہوئی کہ انہیں مردہ قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد انہیں بھارتی نمبروں سے فون کالز بھی موصول ہوئیں۔ ان کے مطابق بھارتی میڈیا پر اپنی ذاتی معلومات استعمال ہونے کا علم ہونے پر انہیں مزید حیرت ہوئی۔
محمد آصف نے بتایا کہ انہوں نے اپنے سابق یونٹ اور آئی ایس پی آر کو صورتحال سے آگاہ کردیا تاکہ ان کا ریکارڈ واضح رہے۔ ان کے مطابق انہوں نے 2000 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی، 2005 میں ایس ایس جی میں شامل ہوئے اور 2023 میں ریٹائر ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ایک نجی سیکیورٹی کمپنی میں بھی کام کیا اور اس وقت راولپنڈی میں اپنے گھر میں موجود ہیں۔ انہوں نے بھارتی میڈیا میں نشر ہونے والے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ زندہ اور صحافیوں کے سامنے موجود ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی دعوے کو پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سامنے آنے والی تفصیلات پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے اسے بھارت کی جانب سے ایک مبینہ ’فالس فلیگ‘ کارروائی قرار دیا، تاہم بھارت کی جانب سے اس الزام کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، بھارت کی داخلی پالیسیوں اور پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہوں سے متعلق بھی متعدد الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت پاکستان میں سرگرم بعض تنظیموں کی حمایت اور فنڈنگ کرتا ہے۔ ان الزامات کی بھارت کی جانب سے تردید کی جا چکی ہے۔
انہوں نے افغانستان میں موجود طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان حکومت سے مسائل ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پاکستان کے لیے سیکیورٹی چیلنج ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ کارروائی کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بھارت کو کسی بھی اقدام کے ممکنہ نتائج کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے سعودی عرب اور حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
دوسری جانب بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ ہاشم موسیٰ عرف آصف فوجی کو بڈگام میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کارروائی مئی 2026 سے جاری آپریشن کا حصہ تھی۔
یوں محمد آصف کی جانب سے میڈیا کے سامنے موجودگی نے بھارتی دعوے میں شناخت کے حوالے سے ایک اہم سوال ضرور اٹھا دیا ہے، جبکہ واقعے سے متعلق دونوں ممالک کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔



