Businesslatest news

پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات: شرح سود اور ایکسچینج ریٹ پر اختلاف برقرار

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزے کے مذاکرات جاری ہیں، جن میں ایکسچینج ریٹ پالیسی اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود کے معاملے پر گفتگو جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے اور مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو سخت رکھنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف پہلے بھی ایکسچینج ریٹ میں لچک کو بیرونی جھٹکوں کے لیے اہم ذریعہ قرار دے چکا ہے۔

پاکستانی اقتصادی ٹیم نے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ہونے والے اجلاسوں میں ملکی معاشی اعدادوشمار اور رواں مالی سال کے تخمینوں سے متعلق بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک کا معاشی آؤٹ لک مستحکم ہے، روپے کی قدر میں استحکام ہے اور مہنگائی میں بتدریج کمی کی توقع ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال 4 فیصد معاشی نمو کا ہدف برقرار رکھنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال پاکستان کی برآمدات تقریباً 34 ارب ڈالر جبکہ ترسیلات زر 45.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ درآمدات کا حجم 69 سے 70 ارب ڈالر جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.5 سے 3 ارب ڈالر رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود کو سخت رکھنے کے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دسمبر کے بعد مہنگائی میں بتدریج کمی متوقع ہے۔

حکام کے تخمینے کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کے قریب رہی تو مہنگائی کی شرح تقریباً 7.5 فیصد جبکہ تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی صورت میں مہنگائی 8.2 فیصد تک جا سکتی ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق روپے کا استحکام درآمدی مہنگائی کو محدود رکھنے میں مدد دے گا، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری سے بیرونی شعبے کے مستحکم رہنے کی توقع ہے۔

بریفنگ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں ترسیلات زر میں 14.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مقامی سطح پر خوراک کی بہتر پیداوار کے باعث درآمدی بل محدود رہنے کی توقع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باوجود 4 فیصد معاشی نمو کا ہدف برقرار ہے، تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹیں ملکی معیشت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کا موجودہ مشن پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے کے لیے پاکستان میں ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button