crimelatest news

59 خواتین کو ملازمت کا جھانسہ دے کر فارم ہاؤس بلایا گیا، موبائل فون لے کر مبینہ منتظم فرار

کراچی(ہم شہری) گڈاپ میں روزانہ 2 ہزار روپے معاوضے پر 25 روزہ ملازمت کا وعدہ کرکے 59 خواتین کو فارم ہاؤس بلانے اور ان کے موبائل فون لے کر مبینہ طور پر فرار ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے فارم ہاؤس بک کرانے والے شخص اور ایک خاتون کو گرفتار کر لیا، جبکہ مبینہ ایونٹ آرگنائزر کی گرفتاری اور موبائل فونز کی برآمدگی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں سے خواتین کو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 25 روزہ اسائنمنٹ کے لیے منتخب کیے جانے کا بتایا گیا تھا۔ انہیں روزانہ 2 ہزار روپے معاوضے کے علاوہ کھانے اور ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔

ایس ایس پی ملیر ڈسٹرکٹ کے ترجمان کے مطابق خواتین کو بتایا گیا تھا کہ سپر ہائی وے کے قریب واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں منعقد ہونے والی ’’ایکٹیویٹیز‘‘ نامی تقریب کے لیے انہیں کام کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں فارم ہاؤس پر بلڈرز اور ہاؤسنگ سوسائٹی کے حکام کی جانب سے انٹرویو کیے جانے کا بھی بتایا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق فارم ہاؤس وقاص نامی شخص نے بک کرایا تھا، جبکہ نرگس نامی خاتون شرکا کے ساتھ رابطہ کاری کر رہی تھی۔ ساحل سلمان کو مبینہ طور پر ایونٹ آرگنائزر بتایا گیا ہے۔

خواتین کو بدھ کے روز دو بسوں کے ذریعے کراچی کے مختلف علاقوں سے فارم ہاؤس پہنچایا گیا۔ وہاں دوپہر کے کھانے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ متوقع انٹرویو کے دوران موبائل فونز کی گھنٹی سے خلل پڑ سکتا ہے، اس لیے وہ اپنے فون جمع کرا دیں۔

خواتین کے مطابق موبائل فونز ایک بیگ میں جمع کیے گئے، جس کے بعد مبینہ منتظم فون لے کر وہاں سے چلا گیا۔ نرگس کے بھی اسی دوران فارم ہاؤس سے روانہ ہونے کی اطلاع ہے۔

متاثرہ خواتین نے پولیس کو اطلاع دی، جس پر اہلکار فارم ہاؤس پہنچے اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے۔ پولیس نے خوشنما زیب کی شکایت پر گڈاپ سٹی تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 379، 420 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

پولیس نے فارم ہاؤس بک کرانے والے وقاص اور مبینہ کوآرڈینیٹر نرگس کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ساحل سلمان کی گرفتاری اور موبائل فونز کی برآمدگی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

مقدمے کی مدعی خوشنما زیب، جو گلستانِ جوہر بلاک 18 کی رہائشی ہیں، نے پولیس کو بتایا کہ تقریباً دو ماہ قبل ان کی ایک دوست نے ان سے رابطہ کرکے 25 روزہ تقریب میں کام کے لیے سی وی اور ویڈیو پروفائل جمع کرانے کو کہا تھا۔

ان کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ ملازمت کے دوران روزانہ صبح 10 بجے سے شام 7 بجے تک کام کرنا ہوگا اور اس کے عوض 2 ہزار روپے یومیہ ادا کیے جائیں گے۔

خوشنما زیب نے بتایا کہ بعد ازاں ساحل سلمان نے انہیں منتخب کیے جانے کی اطلاع دی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کر لیا، جہاں نرگس کو کوآرڈینیٹر کے طور پر متعارف کرایا گیا۔

ان کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے الگ الگ واٹس ایپ گروپس بنائے گئے تھے اور ہر گروپ کے لیے رابطہ کار مقرر کیے گئے تھے۔ خواتین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 30 ستمبر کو صبح 9 بجے مقررہ بس اسٹاپس پر پہنچیں، جہاں سے انہیں فارم ہاؤس لے جایا گیا۔

فارم ہاؤس کے منیجر اشر انصاری نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ فارم ہاؤس تقریباً 50 سے 55 خواتین پر مشتمل ایک ایونٹ کے لیے بک کرایا گیا تھا۔

ان کے مطابق وقاص نے فارم ہاؤس کی بکنگ کروائی تھی، تاہم وہ خود وہاں نہیں آیا۔ ایک شخص، جس کا نام انہوں نے ’’آصف یا سلمان‘‘ بتایا، ایک خاتون کے ہمراہ فارم ہاؤس پہنچا تھا۔

اشر انصاری نے بتایا کہ جب انہوں نے روانگی کے وقت ایونٹ کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے منتظم سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ راستے میں ہے۔ کچھ دیر بعد نگراں نے اطلاع دی کہ مذکورہ شخص خواتین کے موبائل فون لے کر فرار ہو گیا ہے۔

منیجر کے مطابق خواتین کو فون جمع کرانے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ متوقع ’’باس‘‘ کی آمد کے دوران موبائل فونز کی گھنٹیاں خلل پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فارم ہاؤس کی بکنگ مقررہ طریقہ کار کے مطابق کی گئی تھی اور بکنگ کرانے والے شخص کے شناختی کارڈ کی تفصیلات بھی ان کے پاس موجود تھیں۔

واقعے سے متاثرہ ایک اور خاتون نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ انہیں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں مختلف برانڈز کے اسٹالز سے متعلق 25 روزہ اسائنمنٹ کی پیشکش کی گئی تھی۔

ان کے مطابق خواتین کو روزانہ 2 ہزار روپے معاوضے کے ساتھ کھانا اور ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔

خاتون نے بتایا کہ موبائل فون جمع کرنے کے بعد ان پر رسیدیں لگائی گئیں اور پھر خواتین کو متوقع مالک کی آمد کے انتظار میں قطار میں کھڑا ہونے کو کہا گیا۔ بعد ازاں انہیں معلوم ہوا کہ مبینہ منتظم موبائل فون لے کر وہاں سے جا چکا ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام ایونٹ کے انعقاد، فارم ہاؤس کی بکنگ اور اس میں ملوث دیگر افراد کے کردار سے متعلق معلومات بھی جمع کر رہے ہیں۔

تاحال پولیس تفتیش مکمل ہونے اور موبائل فونز کی برآمدگی سے متعلق حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ واقعے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button