لاہور: آذربائیجانی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا کیس، گرفتار ملزمہ کا ریمانڈ محفوظ، اہم شواہد سامنے آگئے

لاہور(ہم شہری) لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں تفتیش جاری ہے۔ گرفتار ملزمہ مسکان کو کینٹ کچہری میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔ دوسری جانب متاثرہ خاتون کا دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا بیان، مبینہ نکاح نامہ اور پنجاب اسمبلی کے دورے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔
لاہور میں درج مقدمے کی تفتیش کے دوران ڈیانا کی پاکستان آمد، مختلف مقامات پر موجودگی اور جہلم میں مبینہ نکاح سے متعلق دستاویزات سامنے آئی ہیں۔ پولیس اور تفتیشی حکام کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کی عدالت میں مقدمے میں نامزد ملزمہ مسکان کو سخت سیکیورٹی میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مسکان کا یہ پہلا جسمانی ریمانڈ ہے اور تفتیش آگے بڑھانے کے لیے ان کی تحویل ضروری ہے۔
ملزمہ کے وکیل نے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو ان کی مؤکل سے کوئی برآمدگی نہیں کرنی اور مسکان کا ڈیانا سے تعلق محض دوستی کی حد تک تھا۔ وکیل نے ریمانڈ کے جواز پر بھی اعتراض اٹھایا۔
سماعت کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزمہ سے دریافت کیا کہ آیا وہ اپنا طبی معائنہ کروانا چاہتی ہیں۔ اس پر مسکان نے مبینہ طور پر طبی معائنے سے انکار کیا، جس کے بعد عدالت نے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔ا
دوسری جانب متاثرہ خاتون ڈیانا کا دفعہ 164 کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کی عدالت میں ریکارڈ کیا گیا بیان بھی سامنے آیا ہے۔
بیان کے مطابق ڈیانا نے بتایا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی تھیں، جس کے بعد لاہور آئیں، جہاں ان کی ملاقات نمرہ اور مسکان سے ہوئی۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ ان کی دوست نمرہ نے ایک تقریب کے انعقاد کے لیے ملزمان سے رقم وصول کی۔ ان کے مطابق بعد ازاں محسن، احمد اور علی زین نامی افراد انہیں ایک اپارٹمنٹ میں لے گئے، جہاں انہیں الگ کمرے میں بند کرکے مبینہ طور پر زبردستی شراب پلائی گئی اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
ڈیانا نے اپنے بیان میں مزید الزام لگایا کہ ملزمان نے ان کا آئی فون، ریڈمی موبائل فون اور دو لاکھ روپے نقدی سے بھرا بیگ چھین لیا، جس کے بعد انہیں گاڑی سے باہر دھکیل دیا گیا۔ خاتون کے مطابق مقامی افراد کی مدد سے پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر اطلاع دی گئی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے دو خواتین اور تین مردوں سمیت پانچ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزمان کے چھ قریبی دوستوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کی طبی رپورٹ میں مبینہ زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم رپورٹ کے نتائج کی تفصیلات اور ان کی آزادانہ تصدیق سے متعلق معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔ تفتیش کے دوران جوہر ٹاؤن کے ایک کیفے سے بھی خاتون کی موجودگی سے متعلق تصاویر ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق خاتون کے مبینہ طور پر چھینے گئے دونوں موبائل فونز اور نقد رقم کی برآمدگی کے لیے تلاش جاری ہے۔ کیس کی تفتیش کے سلسلے میں پراسیکیوٹر نے بھی متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
مقدمے سے متعلق سامنے آنے والے مواد میں ڈیانا کا مبینہ نکاح نامہ بھی شامل ہے، جس کے مطابق ان کی شادی جہلم میں ہوئی۔ ایک ویڈیو میں خاتون کو دلہن کے لباس میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان دستاویزات کی صداقت، نکاح کے حالات اور مقدمے سے ان کے تعلق کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
حکام کی جانب سے کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ تفتیش کا حتمی نتیجہ اور ملزمان کے خلاف الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ شواہد اور عدالتی کارروائی کی روشنی میں ہوگا۔



