ڈاکٹرز ہسپتال میں 11 منزلہ عمارت کی تعمیر روکنے کا عدالتی حکم، متعلقہ فریقین 6 اکتوبر کو طلب

لاہور (این ایل آئی)سابق سینیٹر ڈاکٹر صفدر علی عباسی کی جانب سے دائر دعوے پر سول کورٹ نے ڈاکٹرز ہسپتال میں زیر تعمیر 11 منزلہ عمارت کی کھدائی اور تعمیراتی کام روکنے کا حکمِ امتناعی جاری کر دیا۔ عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 6 اکتوبر 2026 کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔




تفصیلات کے مطابق سابق سینیٹر ڈاکٹر صفدر علی عباسی نے K&K Legacy Advocates & Corporate Consultants کے توسط سے سول کورٹ میں دعویٰ دائر کیا، جس میں ڈاکٹرز ہسپتال میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث ملحقہ رہائشی عمارتوں کو مبینہ طور پر لاحق خطرات اور ممکنہ جانی و مالی نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے تعمیراتی کام رکوانے کے لیے حکمِ امتناعی کی درخواست بھی دائر کی گئی۔
درخواست پر سماعت کے بعد عدالت نے ڈاکٹرز ہسپتال کے ڈاکٹر فاروق سعید اور متعلقہ انتظامیہ کے خلاف 11 منزلہ نئی عمارت کی کھدائی اور تعمیراتی سرگرمیاں روکنے کا حکمِ امتناعی جاری کر دیا۔عدالت نے معاملے کی نوعیت اور درخواست میں بیان کردہ ممکنہ جانی و مالی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ افراد، ان کے وکلاء، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، متعلقہ ٹھیکیدار اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 6 اکتوبر 2026 کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
دعویٰ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر غیر محتاط اور غیر ذمہ دارانہ کھدائی کے باعث دو ملحقہ رہائشی عمارتوں کی بنیادیں متاثر ہوئی ہیں، جس سے ان عمارتوں کو کروڑوں روپے کے ممکنہ مالی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ عمارتیں مبینہ طور پر ناقابلِ رہائش حالت میں پہنچ چکی ہیں۔دیوانی مقدمے میں ڈاکٹر فاروق سعید اور ہسپتال انتظامیہ کے علاوہ ایل ڈی اے، متعلقہ ٹھیکیدار اور سائٹ انجینئر کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔اسی معاملے پر پولیس کو بھی درخواست دی گئی تھی، جس پر متعلقہ ایس ایچ او نے موقع پر پہنچ کر تعمیراتی کام رکوانے کی کارروائی کی۔
درخواست گزار کے مطابق عدالتی حکمِ امتناعی اور پولیس کی مداخلت کے باوجود ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ ٹھیکیدار کی جانب سے دوبارہ کھدائی اور تعمیراتی سرگرمیاں شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔درخواست گزار نے واضح کیا ہے کہ اگر 6 اکتوبر کو ہونے والی آئندہ سماعت سے قبل عدالتی حکمِ امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیراتی کام دوبارہ شروع کیا گیا تو متعلقہ افراد کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سابق سینیٹر ڈاکٹر صفدر علی عباسی کی جانب سے K&K Legacy Advocates & Corporate Consultants کے توسط سے 500 ملین روپے (50 کروڑ روپے) ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملحقہ رہائشی عمارتوں کے مکینوں کو ممکنہ جانی و مالی نقصان سے تحفظ فراہم کرنا اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔



