سیاسی جدوجہد کو پُرتشدد بنانے سے جمہوریت کمزور اور اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہوئی، لیاقت بلوچ
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا " ہم شہری " کو خصوصی انٹرویو۔

لاہور(عمران اسلم) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پُرامن سیاسی اور جمہوری جدوجہد ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے، تاہم سیاسی تحریکوں کو پُرتشدد بنانے سے سیاست اور جمہوریت کمزور جبکہ سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہوئی ہے۔

کراچی سے لاہور دورانِ پرواز ہم شہری میڈیا گروپ کے ایڈیٹر رپورٹنگ و بیورو چیف لاہور عمران اسلم کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی مخالفت کی، جبکہ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی بھی مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق فوجی عدالتوں کے قیام اور آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق اقدامات کی بھی جماعت اسلامی نے مخالفت کی۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے بلند بانگ دعوے کرنے والی بعض سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ کر لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی میں جمہوریت، شورائیت اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔

احتجاجی دھرنوں پر ہونے والی تنقید اور جماعت اسلامی پر حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر عوام کو گمراہ کرنے کے الزامات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج پُرامن، مہذب اور عوامی مسائل سے متعلق ہوتے ہیں۔ حکومتوں کے مختلف حربوں کے باوجود جماعت اسلامی اشتعال انگیزی سے گریز کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بامقصد جدوجہد کے لیے صبر اور مضبوط اعصاب ضروری ہیں۔ جماعت اسلامی کسی کی ڈکٹیشن پر فیصلے نہیں کرتی بلکہ اپنے مضبوط مشاورتی اور شورائی نظام کے تحت فیصلے کرتی ہے۔
انٹرویو کے اختتام پر لیاقت بلوچ نے ہم شہری میڈیا گروپ پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔



