
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کیمرہ ڈیوائس لگی عینکوں پر پابندی کی درخواست پروزارت تجارت ،وزرات اطلاعات ،پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور این سی سی آئی اے سے 8 اکتوبر کو جواب طلب کرلیا، درخواست گزار کے وکیل شہرام ساقی نے موقف اپنایا کہ مارکیٹوں میں کیمرے لگی عینکیں فروخت ہو رہی ہیں جن سے ہر قسم کی خفیہ ریکارڈنگ ممکن ہے، عینکیں سیکورٹی رسک ہیں ،کیمرہ لگی عینکوں کی فروخت کے لئے کسی حکومتی ادارے سے منظوری نہیں لی گئی، استدعا ہے کہ عدالت ذمہ دار اداروں سے اس بابت وضاحت طلب کرے اور عینکوں کی فروخت پر فوری پابندی کا حکم دے۔
چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کے خلاف دائر تین سال پرانی توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی، عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد ہو چکا ہے، اس لیے توہین عدالت کی درخواست نمٹائی جاتی ہے۔
لاہورہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف کی بہن علیمہ خان سے ملاقات کی اجازت اور جیل میں میڈیکل سہولیات کی فراہمی کی درخواست پر سماعت،جسٹس عبہر گل خان نے عظمیٰ خان کی درخواست پرہوم سیکرٹری پنجاب کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی،ہوم سیکرٹری کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل فرخ خان لودھی نے پیش رپورٹ میں موقف اپنایا کہ علیمہ خان کو جیل میں تولیہ،فیس واش،برش،سکین کٹ اور شال فراہم کر دی گئی ہیں، وکیل رانا مدثر عمر نے موقف اپنایا گیا کہ عظمیٰ خان کو نظر بند ہونے 9 روز ہو گئے، وکلا ءاور فیملی ممبران سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی،نہ ہی جیل میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صرف کسی اندیشے کی بنیاد پر کسی کے بنیادی حقوق چھین لینا کہاں کا انصاف ہے؟ سفاکیت کی تمام حدیں عبور کردی گئیں ہیں، علیمہ خان کی نظر بندی کو 9 دن گزر چکے ہیں ، اعلانیہ بتایا جا رہا ہے کہ تمہاری کوئی حیثیت نہیں، ہم عدالتوں سے یہ استدعا کرتے ہیں کہ انصاف کریں، انہوں میرے علم میں نہیں ہے کہ اس وقت کو نسا بیک چینل کام کر رہا ہے؟بانی پی ٹی آئی کے خاندان نے مثال قائم کی ہے، بانی پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کو مذاکرات کا اختیار دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں کنٹرولر جنرل ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی تقرری سے متعلق سروس رولز کالعدم قرار دینے کے سنگل بینچ کے فیصلے پر پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت،جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس ملک جاوید اقبال وینس پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مدعا علیہ حافظ غنظفر علی سے 12 اکتوبر کو جواب طلب کرلیا،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان نے موقف اپنایا کہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 212 کی تشریح سے متعلق ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ سنگل بینچ نے صوبے کے سروس رولز بنانے کے اختیار کے بارے میں کیا فیصلہ دیا ہے؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ سنگل بینچ نے ایک طرف صوبے کے رولز بنانے کے اختیار کو تسلیم کیا، جبکہ دوسری طرف انہی رولز کو کالعدم قرار دے دیا، یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں قابلِ سماعت ہی نہیں تھا۔ درخواست گزار کو سروس ٹربیونل سے رجوع کرنا چاہیے تھا،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر رولز کالعدم قرار دے دئیے گئے تو معاملہ دوبارہ محکمہ کو ہی کیوں بھیج دیا گیا؟پنجاب حکومت کے لاء افسر نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے لیے متعلقہ فورم سروس ٹربیونل تھا اور آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت سروس معاملات میں ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانونی سوال موجود ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس محمد اجمل زاہد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے گلف پیکجنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خلاف انکم ٹیکس ریفرنسز دائر کرنے میں تاخیر معاف کرنے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے تینوں ریفرنسز میعاد مقررہ گزرنے کے باعث خارج کر دئیے، عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ کے مطابق دفتر نے اعتراض دور کرنے کے لیے تین دن کی مہلت دی تھی مگر درخواست گزار نہ اعتراض مقررہ مدت میں دور کر سکا اور نہ ہی ریفرنس دفتر کی دی گئی مدت میں دوبارہ دائر کیا، سرکاری محکمے بھی میعاد کے قانون کے اتنے ہی پابند ہیں جتنے عام سائلین اور انہیں محض سرکاری حیثیت کی بنا پر کوئی خصوصی رعایت نہیں دی جا سکتی، محکمہ پوری تاخیر کی تسلی بخش وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہا، اس نے دفتری اعتراض دور کرنے کی مدت میں توسیع کے لیے بروقت عدالت سے رجوع کیا اور نہ ہی دوبارہ دائر کرتے وقت تاخیر معاف کرنے کی درخواست دی، جبکہ دفتر کی جانب سے میعاد کا اعتراض نہ لگانے سے عدالت قانونی مدت نظر انداز نہیں کر سکتی، عدالت نے قرار دیا کہ جب ریفرنسز میعاد سے باہر ثابت ہو جائیں تو ان کے میرٹ پر جانے کی ضرورت نہیں رہتی، عدالت نے فیصلے کی مصدقہ نقل اپیلیٹ ٹربیونل کو بھجوانے کا حکم بھی دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں 228 غیرقانونی بھرتیوں کی تحقیقات کا حکم دیدیا،عدالت نے حکم دیا کہ سینڈیکیٹ فیصل آباد زرعی یونیورسٹی گریڈ 1 تا 22 تک ملازمین و پروفیسرز کی بھرتیوں کی قانونی حیثیت، میرٹ اور شفافیت کی بھی تحقیقات کی جائیںاور تمام افراد کو شنوائی کا موقع دیا جائے، پروفیسر احسان قادر بھابہ و دیگران کی درخواستوں میں موقف اپنایا گیا کہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے ریٹائرمنٹ کی رات گئے تمام غیرقانونی بھرتیوں کے نوٹیفکیسشنز جاری کئے، گورنر پنجاب نے بھی بطور چانسلر یونیورسٹی غیرقانونی بھرتیوں کی تحقیقات کیلئے سینڈیکیٹ کو حکم جاری کیا، غیرقانونی طور پر بھرتی افراد ایک مافیا کی طرح سنڈیکیٹ کی تحقیقات میں رکاوٹیں پیدا کرتے رہے، غیرقانونی بھرتی شخصیات صرف عدالتی حکم امتناعی کی آڑ میں چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں، قانون کے تحت غیرقانونی اور غیرشفاف طریقے سے سرکاری ملازمتوں پر بھرتیاں نہیں ہو سکتیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے عدالتی نوٹس جاری ہونے کے فوری بعد نظربند امیر خان کو دوسرے مقدمے میں گرفتار کرنے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کوذاتی طور پر انکوائری کرنیکا حکم دیدیا،عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز سے 30 ستمبر کورپورٹ طلب کرلی، عدالت نے ہدایت کی کہ رپورٹ میں امیر خان کی گرفتاری کی وجوہات، وقت، طریقہ کار اور اس سے متعلق تمام حالات و واقعات کی مکمل تفصیلات شامل کی جائیں، عدالت نے لاء افسر کو بھی ہدایت کی کہ عدالتی حکم پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے ، عدالت نے قرار دیا کہ پولیس رپورٹ نے عدالت کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، عدالت کے مطابق واقعات کی ترتیب بادی النظر میں اس تاثر کو جنم دیتی ہے کہ عدالتی کارروائی کو روکنے یا ناکام بنانے کی دانستہ کوشش کی گئی،گر پولیس کا طرزِ عمل ثابت ہو گیا تو یہ اختیارات کے سنگین غلط استعمال کے مترادف ہو گا،پولیس رپورٹ کے مطابق نظربند امیر خان کو شناخت پریڈ کیلئے جوڈیشل لاک اپ بھیجا گیا تھا، تاہم عدالت نے ایس ایچ او گجرپورہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے گرفتاری کے تمام حالات کی اعلیٰ سطح پر جانچ کو ضروری قرار دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے قتل کیس میں نامزد ملزم ریاست علی کی عبوری ضمانت خارج کردی،ملزم کی احاطہ عدالت سے فرار کی کوشش ناکام،پولیس ملزم لیکر روانہ ہوگئی،ملزم کے خلاف تھانہ اسلام پورہ میں مقدمہ درج ہے۔
انسدد دہشتگردی عدالت نے پولیس کی درخواست پرحماد اظہر کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کردی، سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ ملزم کا موبائل فون اور سم برآمد کر نا ہے مزید ریمانڈ دیا جائے،حماد اظہر نے روسٹرم پر آکر موقف اپنایااکیس دن کا جسمانی ریمانڈ ہوچکا ہے، یہاں قتل کے ملزم کا 14 دن کا ر یمانڈ دیا جاتا ہےکیا میرا جرم قتل سے بڑھ گیا ہے؟میری وکلاء اور فیملی سے ملاقات نہیں کروائی گئی،اس کیس میں ریمانڈ دیا گیا جہاں میں موقع پر موجود ہی نہیں تھا،قیدیوں کی وین سے میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔
کینٹ کچہری لاہور، غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کا معاملہ،غیر ملکی خاتون نے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیرکے روبرو دفعہ 164 کا بیان قلمبند کرا دیا،بیان ریکارڈ ہونے کے دوران تمام غیر متعلقہ افراد کو عدالت سے باہر نکال دیا گیا،خاتون کا 1 گھنٹے سے زائد وقت تک بیان ریکارڈ کیا گیا،بیان قلمبند ہونے کے بعد خاتون کو خفیہ راستے سے احاطہ عدالت سے باہر لے جایا گیا،ملزمان کے خلاف تھانہ ڈیفنس سی میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کے مقدمات کی پیروی کے لیے چوہدری عزیر اشرف ایڈووکیٹ کو سپیشل پراسیکیوٹر مقرر کر دیا گیا۔



