latest newsPolitics

خیبر پختونخوا کابینہ کی نئے پولیس ایکٹ کی منظوری، آئی جی کی تعیناتی کا اختیار وزیراعلیٰ کو ملنے کی تجویز

خیبر پختونخوا کابینہ نے نئے پولیس ایکٹ کی منظوری دے دی، جس کے تحت آئی جی پولیس کی تعیناتی کا اختیار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو حاصل ہوگا۔

مجوزہ قانون کے مطابق صوبائی حکومت آئی جی کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں وفاق سے مزید نام طلب کرسکے گی، جبکہ پولیس افسران کی پوسٹنگ اور تبادلوں کے اختیارات بھی صوبائی حکومت کو حاصل ہوں گے۔

ڈی ایس پیز اور اے ایس پیز کے تبادلے ہوم سیکریٹری جبکہ ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کے تبادلے وزیراعلیٰ کریں گے۔ پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی بھی آئی جی سے لے کر وزیراعلیٰ کو دینے کی تجویز ہے۔

نئے ایکٹ کے تحت پولیس کی آپریشنل، انتظامی اور مالی پالیسیاں بنانے کا اختیار بھی وزیراعلیٰ کو حاصل ہوگا۔

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق نئے قانون کا مقصد پولیس کو عوام کے سامنے مزید جوابدہ بنانا ہے۔ تفتیشی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ریجنل انویسٹی گیشن افسران تعینات کیے جائیں گے جبکہ پولیس کی پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ کیا جائے گا۔

شفیع جان کے مطابق نئے قانون سے پولیس افسران کے لیے ترقی اور کیریئر میں پیش رفت کے مواقع بڑھیں گے اور صوبائی پولیس افسر کے لیے کارکردگی کی بنیاد پر جوابدہی کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔

دوسری جانب کے پی پولیس کے سینئر افسران نے مجوزہ پولیس ایکٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کا مؤقف ہے کہ پشاور ہائیکورٹ آئی جی سے اختیارات لینے سے متعلق ترامیم کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button