latest newsPolitics

گورنر خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت پر تنقید، گورنر راج اور پولیس ایکٹ پر بھی اظہارِ خیال

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اس کے پاس مستقل وزیر داخلہ بھی نہیں۔ ان کے یہ ریمارکس 23 ستمبر کو میڈیا سے گفتگو کے دوران سامنے آئے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت سرکاری وسائل سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد اپنی جماعت کی سرگرمی کے لیے جارہی ہے، سرکاری کام کے لیے نہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے پی ٹی آئی سے بیک ڈور مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر صدر مملکت اور وفاقی حکومت گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کریں تو آئینی طریقہ کار کے تحت یہ اقدام کیا جاسکتا ہے۔

پولیس ایکٹ 2026 کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ کی منظوری دی ہے، تاہم جب قانون منظوری کے لیے ان کے پاس آئے گا تو وہ اس کا جائزہ لیں گے اور کسی شق کو غیر آئینی پائے جانے پر اعتراض کریں گے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو ترمیم شدہ پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دی، جسے مزید قانون سازی کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

گورنر نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت آئی جی اور پولیس کو اپنے تابع کرنا چاہتی ہے اور کہا کہ پولیس کو سیاسی فورس نہیں بننے دیا جائے گا۔ یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پولیس ایکٹ میں آئی جی کی تعیناتی سمیت پولیس کے انتظامی اختیارات سے متعلق تبدیلیاں زیر بحث ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button