ہاروی وائن اسٹائن کو جنسی زیادتی کے مقدمے میں 15 سال قید کی سزا

ہالی وڈ کے فلم ساز ہاروی وائن اسٹائن کو جنسی زیادتی کے مقدمے میں 15 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ ان پر 2006 میں اپنی پروڈکشن اسسٹنٹ مریم ہیلی سے جنسی زیادتی کا الزام تھا۔
ہاروی وائن اسٹائن پر 80 سے زائد خواتین نے جنسی زیادتی اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ عدالت نے گزشتہ سال انہیں جنسی زیادتی کا مجرم قرار دیا تھا، تاہم وائن اسٹائن نے جرم سے انکار کیا۔
جج کرٹس فاربر نے سزا سنانے سے قبل ہاروی وائن اسٹائن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں ’می ٹو‘ مہم کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا۔
اس سے قبل 2020 میں وائن اسٹائن کو جنسی زیادتی کے دو مقدمات میں 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم 2024 میں اپیل کورٹ نے یہ سزا کالعدم قرار دے دی تھی۔
ہاروی وائن اسٹائن کے خلاف الزامات اکتوبر 2017 میں نیویارک ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر سامنے آئے، جس کے بعد خواتین کی بڑی تعداد نے جنسی ہراسانی اور زیادتی کے واقعات بیان کیے اور ’می ٹو‘ مہم نے عالمی توجہ حاصل کی۔
الزامات کے بعد وائن اسٹائن کو ان کی فلم پروڈکشن کمپنی کے بورڈ سے نکال دیا گیا جبکہ اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے بھی ان کی رکنیت معطل کردی تھی۔



