latest newsPolitics

اسلام آباد احتجاج: راستوں پر خندقیں، رکاوٹیں اور کنٹینرز، سرکاری اسپتالوں میں ہائی الرٹ

اسلام آباد: مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا سے اسلام آباد آنے والے راستوں پر خندقیں کھودنے، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور اہم مقامات پر کنٹینرز کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق موٹروے اور جی ٹی روڈ سمیت بعض راستوں پر خندقیں کھودی جائیں گی، جبکہ 26 نمبر چونگی اور مارگلہ، ٹیکسلا کے قریب بھی رکاوٹوں کے انتظامات کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ اسلام آباد کی اہم شاہراہوں اور ریڈ زون کے اطراف موجود کنٹینرز میں مٹی سے بھری بوریاں رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف ٹرین مارچ کراچی سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں مارچ رحمان بابا ایکسپریس کے ذریعے کراچی کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہوا، جبکہ جماعت اسلامی کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے کارکنان بھی اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو عوام کو ریلیف دینا چاہیے اور احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کوئی پُرتشدد گروہ اسلام آباد نہیں آئے گا اور حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سڑکوں کی بندش اور شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی میں پولیس نفری کی تعیناتی کے لیے 48 تعلیمی اداروں سے متعلق ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ مختلف اضلاع سے پولیس نفری آئندہ چند روز میں راولپنڈی پہنچنے اور یکم اکتوبر تک امن و امان کے لیے تعینات رہنے کی اطلاعات ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر عوامی مقامات پر قبضہ کرکے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا اختیار نہیں۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو اپنے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی۔

ادھر ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ پمز اور پولی کلینک میں 30 ستمبر تک ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر ضروری عملے کی 24 گھنٹے دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پمز میں ایمرجنسی، آئی سی یو، ٹراما سینٹر، آپریشن تھیٹر، بلڈ بینک اور فارمیسی سروسز کو مکمل فعال رکھنے، اضافی بیڈز اور طبی سامان دستیاب رکھنے جبکہ ایمبولینسز کو بھی ہر وقت تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پولی کلینک میں بھی اضافی طبی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ بلڈ بینک میں کم از کم 100 بیگز خون، ادویات، آکسیجن اور دیگر ضروری طبی سامان کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دونوں اسپتالوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوکل پرسنز بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں یہ سیکیورٹی اور طبی انتظامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مارچ جاری ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button