latest newsWorld

شہزادی ڈیانا کا مشہور ’ریونج ڈریس‘ نیلامی سے قبل لندن میں نمائش

لندن: برطانوی شاہی خاندان کی آنجہانی شہزادی ڈیانا کا مشہور ’ریونج ڈریس‘ نیلامی سے قبل لندن میں نمائش کے لیے پیش کردیا گیا ہے۔

کرسٹینا اسٹامبولین کا تیار کردہ سیاہ سلک گاؤن 18 سے 24 ستمبر تک لندن میں سوتھبیز کی بانڈ اسٹریٹ برانچ میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس کے بعد لباس کو ہانگ کانگ اور جنیوا لے جایا جائے گا، جہاں سے یہ 2 دسمبر کو نیویارک پہنچے گا۔

سوتھبیز کے بریور بلڈنگ میں یہ لباس 8 دسمبر تک عوام کے لیے نمائش میں رہے گا، جس کے بعد 9 دسمبر کو اسے نیلام کیا جائے گا۔ لباس کی قیمت 3 لاکھ ڈالر تک حاصل ہونے کی توقع ہے۔

شہزادی ڈیانا نے یہ لباس 29 جون 1994 کو لندن کی سرپینٹائن گیلری میں وینٹی فیئر کی جانب سے منعقدہ فنڈ ریزنگ ڈنر میں پہنا تھا۔ یہ وہی دن تھا جب اس وقت کے شہزادہ چارلس نے اپنی ازدواجی زندگی میں بے وفائی کا اعتراف کیا تھا۔

یہ لباس اس سے قبل 1997 میں شہزادی ڈیانا کے 79 ملبوسات کی نیلامی میں بھی شامل تھا، جس سے حاصل ہونے والی رقم کینسر اور ایڈز سے متعلق خیراتی اداروں کے لیے جمع کی گئی تھی۔

سوتھبیز کی گلوبل ہیڈ آف ہینڈ بیگز اینڈ فیشن مورگن حالمی کے مطابق اس لباس کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ اسے شہزادی ڈیانا نے پہنا تھا، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ سرپینٹائن گیلری میں اس کی رونمائی نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی اور اس نے ایک خاص پیغام دیا۔

دوسری جانب ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’Swan Song: Diana, My Sister‘ 22 ستمبر کو شائع ہونے والی ہے، جس میں انہوں نے ڈیانا کی موت کے بعد کے واقعات سے متعلق بعض دعوے کیے ہیں۔

ارل اسپینسر کے مطابق ڈیانا کی موت پر کنگ چارلس سوم نے کہا تھا کہ ’’یقین رکھیں، ہم جلد ہی اسے بھول جائیں گے۔‘‘ بکنگھم پیلس نے اس بیان پر براہِ راست تبصرہ کرنے کے بجائے کہا کہ طویل عرصے بعد غم اور یادداشت بعض واقعات کے ادراک اور یاد کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ارل اسپینسر نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کنگ چارلس نے یہی الفاظ کہے تھے اور وہ اس وقت ان کی گفتگو پر پوری توجہ دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچ بیان کر رہے ہیں۔

شہزادی ڈیانا اگست 1997 میں پیرس میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہوئی تھیں۔ ان کی موت کے بعد برطانیہ سمیت دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سوگ منایا گیا اور یہ واقعہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button