تیل کی قلت ہوئی تو پیٹرول ایک ہزار روپے فی لیٹر میں بھی دستیاب نہیں ہوگا: علی پرویز ملک

لاہور(عمران اسلم) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیا ہے کہ عالمی خام تیل کی منڈیوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ تیل کی قلت پیدا ہونے کی صورت میں پیٹرول ایک ہزار روپے فی لیٹر میں بھی دستیاب نہ ہونے کا خدشہ ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی ہے۔ حکومت تیل کی دستیابی اور قیمتوں کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہی ہے اور مختلف ذرائع سے تیل کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی خام تیل کی منڈیوں میں بھونچال آیا ہوا ہے، پیٹرول مہنگا ہے اور عالمی حالات کے باعث پاکستان میں بھی قیمتوں پر اثر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر تیل کی قلت پیدا ہوئی تو صورتحال سنگین ہوسکتی ہے، جس کے باعث پیٹرول ایک ہزار روپے فی لیٹر میں بھی دستیاب نہ ہونے کا امکان ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کو عوام کی مشکلات کا احساس ہے اور وسائل کی کمی کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 90 فیصد اضافہ ہوا، تاہم پاکستان میں اس کا تقریباً 50 فیصد اثر منتقل کیا گیا۔
وزارت پیٹرولیم کے مطابق حکومت نے ستمبر کی تیل کی ضروریات محفوظ بنانے کے ساتھ اکتوبر کی فراہمی کے لیے بھی انتظامات کیے ہیں، جبکہ نومبر کی ضروریات کے لیے مزید سپلائی ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں۔ سپلائی صورتحال کا پی ایس او، اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم کی پیٹرول ریلیف اسکیم کے تحت اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور دیگر دو و تین پہیوں والی گاڑیوں جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جا رہا ہے۔
حکومت کے مطابق اسکیم کے لیے پہلے ماہ 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تین ماہ کے لیے فنڈز بھی مختص کیے جاچکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے اسکیم کے تحت پمپس اور ڈیلرز کے کلیمز کی ادائیگی 48 گھنٹوں میں مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔



