ٹرمپ انتظامیہ کی عالمی فوجداری عدالت پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی تیاری

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت (ICC) پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اور دستاویزات کی بنیاد پر تیار کی جانے والی ان پابندیوں کے تحت چھ سے سات ماہ کی مہلت کے بعد عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ زیادہ تر مالی لین دین پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ پابندیاں عدالت کو امریکی مالیاتی نظام سے مزید دور کرسکتی ہیں، جبکہ اس کے امریکی ڈالر میں لین دین پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔
یہ اقدام اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے کے بعد واشنگٹن اور عدالت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
امریکا نے اس سے قبل بھی عالمی فوجداری عدالت کے بعض حکام پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق فروری 2025 کے صدارتی حکم کے تحت آئی سی سی سے متعلق پابندیوں کا باقاعدہ پروگرام موجود ہے، جبکہ اگست 2026 میں بھی مزید افراد کو اس فہرست میں شامل کیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہوسکی اور مجوزہ نئی پابندیوں کی حتمی تفصیلات یا سرکاری اعلان اس وقت سامنے نہیں آیا تھا۔



