خواتین کے امراض میں کمی کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں، پروفیسر ڈاکٹر فرید ظفر

سوسائٹی آف فیملی فزیشنز اور جنرل کیڈر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام 36ویں سالانہ فیملی کانفرنس کا اختتامی اجلاس ہوا، جس میں طبی ماہرین اور ڈاکٹرز نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج و لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فرید ظفر نے کہا کہ خواتین کے امراض میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جن میں بانجھ پن سرفہرست ہے۔ جدید تحقیق کے ذریعے بانجھ پن سمیت دیگر نسوانی امراض کا مؤثر علاج ممکن ہے۔
انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ وزن کو مناسب رکھیں، متوازن غذا استعمال کریں اور روزمرہ معمولات میں اعتدال اختیار کریں تاکہ صحت مند زندگی گزار سکیں۔
جنرل کیڈر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر مسعود شیخ نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد جیسے ادارے ہیلتھ مینیجرز کی تیاری پر خطیر بجٹ خرچ کر رہے ہیں، تاہم سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان کی تعیناتی میں غیر متعلقہ یا غیر موزوں ڈاکٹرز کا انتخاب میرٹ اور ان اداروں کی افادیت پر سوال اٹھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ میں ماسٹر ڈگری اور مساوی اہلیت رکھنے والے ماہرین کی موجودگی کے باوجود ٹیچنگ کیڈر کے ڈاکٹرز کو بطور ہیلتھ ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنا شعبہ صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر احمد قاسم خان نے کہا کہ کوالیفائیڈ فیملی فزیشنز ملکی صحت کے نظام کا اہم ستون ہیں۔ کیپٹن ڈاکٹر قاسم خان نے کہا کہ فیملی فزیشنز جدید علوم سے ہم آہنگ ہوکر اپنے علم میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔
کانفرنس کے دوران سابق اور موجودہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو کارکردگی کی بنیاد پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز بھی دیے گئے، جن میں سید نعمان مشہدی، ڈاکٹر طاہر رشید، ڈاکٹر محمد زاہد، ڈاکٹر منیر غوری، ڈاکٹر مسعود شیخ، پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، ڈاکٹر عامر مفتی، ڈاکٹر بختاور اور ڈاکٹر غلام فرید شامل تھے۔
کانفرنس میں الٹراساؤنڈ کورس بھی منعقد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے آئے ڈاکٹرز کو الٹراساؤنڈ کی تربیت فراہم کی گئی۔
اختتامی اجلاس میں جنرل کیڈر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر اظہر ملک، ڈاکٹر منیر غوری، ڈاکٹر جاوید ممتاز، ڈاکٹر غلام فرید، ڈاکٹر محمد زاہد جبکہ فیملی فزیشنز کے ڈاکٹر طارق عزیز، ڈاکٹر طارق میاں، ڈاکٹر شاہد شہاب اور دیگر نے شرکت کی۔



