فلم ’مینگو جٹ‘ کے فائنل کٹ پر اختلاف، ابو علیحہ نے منصوبے سے علیحدگی اختیار کرلی

فلمساز ابو علیحہ نے فلم ’مینگو جٹ‘ کے فائنل ایڈیٹ پر اختلافات کے باعث فلم سے علیحدگی کی تصدیق کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹریلر میں ان کا نام نمایاں کریڈٹس میں شامل نہ کیے جانے کے بعد انہوں نے فلم کے حتمی ایڈیٹ پر اپنے تحفظات سامنے رکھے۔
فلم کا ٹریلر بدھ کو جاری کیا گیا، جس میں فیصل قریشی، حریم فاروق اور شمون عباسی نمایاں ہیں۔ ابو علیحہ نے جمعے کو انسٹاگرام اسٹوری میں ٹریلر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’انتہائی ناقص‘ قرار دیا اور کہا کہ فلم کا حتمی ورژن اس سے بھی زیادہ مایوس کن ہے۔
ابو علیحہ کے مطابق فلم کا بنیادی خیال ان کا تھا اور انہوں نے تقریباً ساڑھے تین سال قبل اس پر کام شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسکرپٹ لکھا، کرداروں کی کاسٹنگ کی اور حریم فاروق کو اداکارہ کے ساتھ شریک پروڈیوسر کے طور پر منصوبے میں شامل کیا۔ ان کے مطابق فلم کی شوٹنگ تقریباً ڈھائی سال قبل مکمل ہوئی اور چار ماہ بعد انہوں نے ابتدائی ایڈیٹ بھی لاک کر دیا تھا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ بعد میں حریم فاروق کی ٹیم نے فلم کو مزید ایڈیٹنگ کے لیے بھارت بھیجنے کی تجویز دی۔ تقریباً ایک سال بعد واپس آنے والے ورژن میں ان کے مطابق عائشہ جہانزیب کے نصف سے زیادہ مناظر حذف کردیئے گئے، جبکہ مائرہ بنگش کے کردار کو بھی محدود کردیا گیا۔ ابو علیحہ نے اس ایڈیٹ کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی منظوری دینے پر تیار نہیں تھے۔
ابو علیحہ کے مطابق اس دوران پنجاب حکومت کی جانب سے فلم کے لیے 3 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی دی گئی، جس کے بعد انہیں اضافی مناظر فلم بند کرنے کو کہا گیا تاکہ فنڈنگ کو جواز فراہم کیا جاسکے۔ تاہم انہوں نے مجوزہ ابتدائی منظر کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے دوبارہ شوٹنگ سے انکار کردیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اختلافات کے بعد انہوں نے منصوبے سے علیحدگی اختیار کرلی اور فلم ان کے بغیر مکمل کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حریم فاروق کی جانب سے پہلے بات نہ کی جاتی تو وہ اپنے تحفظات منظر عام پر نہ لاتے۔ تاہم ابو علیحہ نے کہا کہ کہانی، مکالمے، کردار اور فلمایا گیا بیشتر مواد ان کی تخلیق کا حصہ ہیں، جبکہ انہوں نے پوری ٹیم کی کاوشوں کو بھی تسلیم کیا۔
’مینگو جٹ‘ حریم فاروق کی پہلی پنجابی فلم ہے اور 2019 کی ’ہیر مان جا‘ کے بعد بڑے پردے پر ان کی واپسی بھی ہے۔ فلم کی ریلیز کی تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی۔



