latest newsWorld

حوثیوں کا ریاض اور سعودی توانائی تنصیبات پر میزائل و ڈرون حملوں کا دعویٰ

یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی دارالحکومت ریاض اور بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع سعودی توانائی تنصیبات کو ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق ریاض کی جانب فائر کیا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے تباہ کردیا، تاہم حکام نے مزید حملوں یا کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

حملوں کے دوران ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایندھن کے ٹینکس سے سیاہ دھوئیں کا کالم اٹھتا دکھائی دیا، جبکہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن کچھ دیر متاثر رہا۔ ریاض میں جولائی کے بعد پہلی مرتبہ فضائی حملے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

سعودی قیادت میں اتحاد کے ترجمان کے مطابق بیش، طائف، فرسان اور ینبع شہروں میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی ’’دشمنانہ کوششیں‘‘ بھی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنائیں۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ریاض میں حساس تنصیبات اور بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں سعودی سرکاری آئل اینڈ گیس کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو بڑی تعداد میں بیلسٹک و کروز میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی یمنی دارالحکومت صنعا پر سعودی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

حوثی ترجمان نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یمن میں 300 حملے کیے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان طویل عرصے سے جنگ جاری ہے۔ حوثیوں نے حالیہ مہینوں میں سعودی عرب کے اندر بھی متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یمن کی جنگ میں شامل دونوں فریقوں کے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہفتے کو ہونے والی لڑائی میں 48 افراد ہلاک ہوئے۔ حوثیوں کے مطابق ان کے 31 جنگجو جبکہ حکومتی ذرائع کے مطابق 17 فوجی مارے گئے۔

اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق حالیہ لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 4 ہزار 796 سے تجاوز کر گئی ہے۔

حوثیوں نے حال ہی میں اسٹریٹجک بندرگاہ موخا اور جزیرہ پریم پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ علاقہ خلیجی ممالک کی ایشیا اور یورپ کو برآمدات کے لیے اہم بحری راستے کے قریب واقع ہے۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی یمن کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی ناکہ بندی کے ردعمل میں کی گئی ہے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ سرمایہ کاری بینک جے پی مورگن نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں کے مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button