27 ستمبر کے احتجاج کی تیاری، سہیل آفریدی کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات

تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاریوں کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپوزیشن رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں 27 ستمبر کی احتجاجی کال، آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل اور احتجاج کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
بیان کے مطابق رہنماؤں نے آئین کی بالادستی، جمہوری حقوق، صوبائی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
یہ تینوں رہنماؤں کی رواں ہفتے دوسری ملاقات تھی۔ اس سے قبل جمعرات کو بھی سہیل آفریدی نے پنجاب کے دورے کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے 27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق مشاورت کی تھی۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایسی کوئی بھی سرگرمی جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں، آئین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گی۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی ملاقات کی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق ناصر عباس نے کہا کہ ملاقات ان کی درخواست پر نہیں ہوئی اور انہوں نے اس سلسلے میں کسی سے رابطہ یا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو انصاف اور بنیادی حقوق کی فراہمی سے متعلق بات کرنی ہے تو اس کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو بانی پی ٹی آئی کے سوا کوئی ملتوی نہیں کرسکتا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک روز قبل کہا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرکے وفاقی دارالحکومت یا کسی صوبے میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں اور عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں توہین عدالت سمیت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کے ابتدائی منصوبے کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے کارکنوں کو مارچ سے کئی روز قبل خیبر پختونخوا پہنچانے اور دیگر قافلوں کے ساتھ مرکزی قافلے کو اسلام آباد کی جانب روانہ کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔
پارٹی نے لاہور، کراچی، حیدرآباد اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں احتجاج اور بعض اہم قومی شاہراہوں پر مظاہروں کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔
پی ٹی آئی نے احتجاج کے لیے مالی اور تنظیمی انتظامات بھی کیے ہیں، جبکہ پارٹی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں سے کارکنوں کی شرکت یقینی بنانے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔



