latest newsPoliticsWorld

مکہ دفاعی اتحاد ادارہ جاتی تشکیل کے آخری مرحلے میں ہے: ترک وزیر خارجہ

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد ادارہ جاتی تشکیل کے آخری مراحل میں ہے، جس کے لیے اب ہیڈکوارٹر کا قیام اور متعلقہ اہلکاروں کی تعیناتی باقی ہے۔

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے 7 اگست کو دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ ذمہ داری اور علاقائی ملکیت کے اصولوں کے تحت سلامتی، امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے ساتھ اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک رکن پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور ہوگا۔

ترک نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ہاکان فیدان نے کہا کہ اتحاد کے قیام کے حوالے سے تینوں ممالک میں مضبوط عزم موجود ہے۔ ان کے مطابق ادارہ جاتی ڈھانچہ مکمل ہونے کے بعد خطے کے مزید ممالک کو اتحاد میں شامل کرنے کے لیے بات چیت کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مکہ دفاعی اتحاد کو خطے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی توسیع کے امکانات موجود ہیں۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے حوالے سے ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکیہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے معاملے پر اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو عسکری نوعیت کی معاونت درکار ہوئی تو مکہ اتحاد کے تحت پاکستان کے ساتھ مشاورت کرکے ضروری تکنیکی تعاون فراہم کیا جا سکتا ہے۔

ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کے قریب ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے اور مکہ دفاعی اتحاد صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے بقول ممکنہ فوجی معاونت مخصوص تکنیکی شعبوں تک محدود رہ سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کو ایران اور امریکا کے جاری تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور اسے اس کشیدگی سے دور رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ترکیہ سے متعلق بیانات پر ہاکان فیدان نے کہا کہ ان کے خیال میں نیتن یاہو اپنی داخلی سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ اسرائیلی پالیسیوں کے نتیجے میں اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

باب المندب آبنائے کے گرد جاری بحران کے حل کے حوالے سے ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مختلف اقدامات جاری ہیں، تاہم ان کوششوں کو متعلقہ فریقوں کے ذریعے عملی نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button