latest newsWorld

ٹرمپ کے اعلان کے بعد CNN اور MS NOW کے صحافی وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیے گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے CNN، MS NOW اور ویب سائٹ Politico پر وائٹ ہاؤس میں داخلے کی پابندی کے اعلان کے ایک روز بعد ان اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

CBS نیوز کے مطابق MS NOW کی نمائندہ اکایلا گارڈنر اور ایک کیمرہ مین کو وائٹ ہاؤس کے داخلی راستے پر روک دیا گیا، جبکہ دونوں کے ہارڈ پریس پاسز غیر فعال کر دیے گئے۔ گارڈنر کے مطابق سیکیورٹی اہلکار نے انہیں بتایا کہ ان کا پریس پاس غیر فعال کردیا گیا ہے، تاہم پابندی کی وجہ بتانے سے معذرت کی۔

CNN کی رپورٹر بیٹسی کلین اور ایک کیمرہ مین کو بھی وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کرتے دیکھا گیا، تاہم وہ اپنے بیجز حاصل کیے بغیر واپس چلے گئے۔

CNN نے ایک بیان میں کہا کہ وائٹ ہاؤس اور دیگر سرکاری عمارتوں تک رسائی محدود کرنے کی کوششوں کے باوجود حکومت کی کوریج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ نیٹ ورک نے کہا کہ وہ حکومت اور دیگر سرکاری اداروں کو جواب دہ بنانے کے اپنے صحافتی کردار سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

MS NOW نے کہا کہ وہ امریکی آئین میں آزادیٔ صحافت کی ضمانت دینے والی پہلی ترمیم کے تحت اپنے حقوق کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ نیٹ ورک کے مطابق وائٹ ہاؤس امریکی عوام کی ملکیت ہے اور وہاں ہونے والے فیصلوں کی مالی معاونت عوام کے ٹیکس سے ہوتی ہے۔

Politico کے صحافیوں کو بھی وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے جمعے کو Truth Social پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے ان اداروں پر ’’جعلی خبروں‘‘ کی اشاعت کا الزام عائد کیا، تاہم انہوں نے کسی مخصوص خبر کی نشاندہی نہیں کی۔

Politico نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی کہ ادارے کو حکومتی سبسڈی ملتی ہے اور کہا کہ یہ الزام پہلے ہی مسترد کیا جا چکا ہے۔ ادارے نے آزادیٔ صحافت کے حقوق کے دفاع کا بھی اعلان کیا۔

وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر جیکی ہائنرش نے CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کو اپنا کام کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

CBS نیوز کی قانونی ماہر جیسیکا لیونسن نے پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے مواد یا ادارے کی کوریج کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم ایسے امتیاز سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button