latest newsWorld

پاکستان، سعودی عرب اقتصادی تعاون فریم ورک پر عملدرآمد تیز کرنے پر متفق

اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب نے اقتصادی تعاون فریم ورک کو عملی مرحلے میں داخل کرتے ہوئے 2030 تک طے شدہ اصلاحات، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں کے اقدامات پر پیش رفت کی دستاویزات تیار کرنے کا عمل شروع کردیا۔

اقتصادی امور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے پاکستان سے تعاون کے منصوبوں، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی و علم کی منتقلی اور پالیسی اصلاحات سے متعلق تفصیلی پروگریس کارڈز طلب کیے ہیں۔ سعودی جانب سے تین اقسام کی رپورٹس مانگی گئی ہیں، جن میں تعاون کی نئی تجاویز، جاری اقدامات پر پیش رفت اور طے شدہ پالیسی اصلاحات کی صورتحال شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر مکمل معلومات 14 ستمبر 2026 تک فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔ یہ مشق دونوں ممالک کے متعلقہ وزارتوں کے درمیان ہونے والے تکنیکی اجلاسوں کے بعد شروع کی گئی، جن میں 12 شعبوں میں اصلاحات اور معاشی مواقع کا جائزہ لیا گیا۔

فریم ورک کے تحت توانائی، صنعت، کان کنی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا، جبکہ سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ بھی تعاون کے اہم شعبوں میں شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے توانائی اور بجلی کے باہمی رابطے سمیت بڑے معاشی منصوبوں پر تعاون کا جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

حکام کے مطابق وزارتوں کو منصوبوں کی پیش رفت، رکاوٹوں، متعلقہ اداروں، تکمیل کی مدت اور درکار وسائل کی نشاندہی کرنا ہوگی۔ 2025 سے 2030 تک کے منصوبوں کے لیے مقررہ اہداف اور زیرِ التوا اقدامات بھی رپورٹ کیے جائیں گے۔

دریں اثنا سعودی عرب نے بلوچستان میں ریکوڈک تانبے اور سونے کے منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ سعودی عرب منصوبے میں 15 فیصد حصص حاصل کرے گا یا نہیں۔

سعودی عرب نے گوادر میں ریفائنری کے قیام کے لیے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا تھا۔ پاکستان کو اب بھی اس منصوبے میں سعودی سرمایہ کاری کی امید ہے اور اسی مقصد کے لیے نئی ریفائنری پالیسی کے تحت مراعات بھی منظور کی گئی ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے اقتصادی تعاون فریم ورک کا اعلان اکتوبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ریاض میں ملاقات کے بعد کیا گیا تھا۔ فریم ورک کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اس تعاون میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود دوطرفہ اقتصادی رابطہ کاری کے اداروں اور سعودی-پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل کو بھی فریم ورک پر عملدرآمد میں شامل کیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button