column and articlelatest news

حوثی کون ہیں؟ یمن کی ملیشیا سے خطے کی طاقت بننے تک کا سفر

خالدمنصور

یمن کے حوثیوں کی حالیہ تیز پیش قدمی کے نتیجے میں اہم بحری گزرگاہ باب المندب ان کے زیرِ اثر آگئی ہے، جس کے بعد ایک زمانے میں محدود اثر رکھنے والی یہ ملیشیا خطے میں نمایاں عسکری قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ایران کی حمایت سے حوثیوں نے طویل فاصلے تک میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت بھی حاصل کی ہے، جس کے باعث وہ بحیرہ احمر میں عالمی بحری تجارت اور پڑوسی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حوثی تحریک کا آغاز 1990 کی دہائی کے اواخر میں شمالی یمن میں زیدی شیعہ مسلمانوں کی مذہبی احیا تحریک کے طور پر ہوا۔ حوثی خاندان کی قیادت میں اس گروپ نے یمنی حکومت کے خلاف 6 جنگیں لڑیں اور ایک مضبوط مقامی ملیشیا تشکیل دی۔

2011 کی عرب بہار کے دوران یمن میں مرکزی حکومت کے کمزور ہونے کے بعد حوثیوں نے اپنے زیرِ اثر علاقے میں توسیع کی اور ایران اور اس کے لبنانی اتحادی حزب اللہ سے تعلقات استوار کیے۔

2014 میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرکے حکومت کو بے دخل کردیا اور خلیجی حمایت یافتہ سیاسی منتقلی کا عمل روک دیا۔ اس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے یمنی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی، جس کے نتیجے میں کئی سال تک خانہ جنگی جاری رہی اور بالآخر 2022 میں جنگ بندی ہوئی۔

2023 سے 2025 کے دوران غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران حوثیوں نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیل اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ ہفتوں میں جنگ بندی ختم ہونے کے بعد یمن کے مختلف محاذوں پر دوبارہ لڑائی شروع ہوئی ہے، جن میں شمال میں مآرب اور الجوف، جنوبی پہاڑی علاقے میں تعز، وسطی یمن میں الضالع اور بحیرہ احمر کا ساحلی علاقہ تہامہ شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے حوثیوں نے جنوبی تہامہ میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے پہلے بندرگاہی شہر المخا اور پھر بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور جزائر پر قبضہ کیا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں باب المندب آبنائے کے تقریباً پورے ساحلی حصے پر ان کا اثر قائم ہوگیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ان علاقوں پر کنٹرول سے حوثیوں کے لیے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر کرنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔ سعودی عرب نے حکومت کے حامی جنگجوؤں کی حمایت میں فضائی حملے بھی کیے ہیں۔

حوثیوں کی طویل فاصلے تک حملے کرنے کی صلاحیت نے انہیں یمن سے باہر بھی اہم عسکری فریق بنا دیا ہے۔ ان کے بیلسٹک میزائل اسرائیل تک پہنچ چکے ہیں، جو یمن سے 1,800 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہے۔ 2025 میں ایک میزائل اسرائیل کے مرکزی ہوائی اڈے کے اطراف میں بھی گرا تھا۔

حوثیوں نے سعودی عرب کے شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جبکہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر میزائل حملے بھی کیے گئے۔ ڈرونز اب صرف دور دراز اہداف کے خلاف نہیں بلکہ یمن کے اندر زمینی لڑائی میں بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ستمبر کے آغاز سے حوثیوں کی جانب سے آن لائن جاری کی جانے والی ویڈیوز میں ڈرونز، مارٹر اور دیگر بم، راکٹ و میزائل لانچ کیے جانے اور عمارتوں و گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

دیگر ویڈیوز میں مسلح پک اپ گاڑیوں اور پیدل حوثی جنگجوؤں کو دکھایا گیا ہے۔ بعض جنگجو عرب لباس جبکہ کچھ کیموفلاج یونیفارم میں نظر آتے ہیں اور ان کے پاس ہلکی و بھاری مشین گنیں اور دوربین والی رائفلیں بھی دکھائی گئی ہیں۔

حوثیوں نے تہامہ میں سعودی حمایت یافتہ فورسز سے قبضے میں لیے گئے بکتر بند اور جنگی گاڑیوں، ٹینک، توپ، سیٹلائٹ ڈش، چھوٹے ہتھیاروں اور ڈرون جیمنگ ڈیوائس سمیت مختلف سازوسامان کی نمائش بھی کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے 2025 کے پینل کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے تکنیکی معاونت اور مقامی پیداوار دونوں کے ذریعے میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں پیش رفت کی ہے۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کے باوجود بڑے پیمانے پر اسلحے کی سمگلنگ کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں عمانی سرحد کے راستے زمینی ترسیل اور سمندری سمگلنگ شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ضبط کیے جانے والے سامان میں ڈرون کنٹرول ڈیوائسز، بحری جہازوں کی نیوی گیشن معلومات حاصل کرنے کا سامان، ڈرون انجن اور میزائل کے پرزے شامل ہیں۔ 2023 کی ایک رپورٹ میں مکمل ڈرونز، بیلسٹک میزائل کے اجزا اور ایرانی ساختہ اینٹی ٹینک میزائلوں کی برآمدگی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

ایرانی ذرائع نے حوثیوں کو ہتھیار اور ماہرین فراہم کیے جانے کی بات کی ہے، تاہم ایران سرکاری طور پر اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثیوں کو مسلح کرنے کی تردید کرتا ہے۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے 2025 کے جائزے کے مطابق حوثیوں نے مقامی سطح پر اسلحہ سازی میں پیش رفت کی ہے، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور اہم عسکری صلاحیتوں کے لیے ان کا انحصار اب بھی ایران پر ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق حوثیوں کی عسکری حکمت عملی میں محاذوں پر دراندازی، ڈرون حملے، گولہ باری اور بارودی سرنگوں سمیت مختلف دھماکا خیز آلات کا استعمال شامل ہے۔

ماہرین نے 2025 میں حوثیوں کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار بتائی اور کہا کہ اس تعداد میں 18 سال سے کم عمر افراد کی بھرتی بھی شامل ہے۔

یمن کے امور کے ماہرین کے مطابق ایران اور حزب اللہ کی تربیت نے حوثیوں کی عسکری صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ براٰء شِبان کے مطابق یہ تربیت عرب بہار کے فوراً بعد شروع ہوئی اور اس نے حوثیوں کو ایک روایتی ملیشیا سے زیادہ منظم عسکری قوت میں تبدیل ہونے میں مدد دی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق 2025 میں حزب اللہ کے میزائل اور ڈرون آپریٹرز بھی حوثیوں کے ساتھ موجود تھے، جبکہ ایرانی قدس فورس کے جنرل عبدالرضا شہلائی بھی کچھ عرصہ یمن میں حوثیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button