latest newsWorld

ایران میں اسکول اور اسپورٹس کمپلیکس پر حملے، اقوام متحدہ کے مشن کو امریکی جنگی جرائم کے شواہد مل گئے

لاہور: اقوام متحدہ کے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن نے کہا ہے کہ اس کے پاس یہ ماننے کے لیے معقول شواہد موجود ہیں کہ فروری میں ایران کے ایک اسکول اور اسپورٹس کمپلیکس پر ہونے والے دو حملوں کے پیچھے امریکا تھا اور یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

یہ انکشافات انٹرنیشنل انڈیپینڈنٹ فیکٹ فائنڈنگ مشن آن ایران کی نئی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی جائے گی۔ رپورٹ میں فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے دوران امریکی کارروائیوں اور گزشتہ برس دسمبر کے اواخر میں شروع ہونے والی ملک گیر بدامنی پر ایرانی حکومت کے ردعمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق انہیں یہ ماننے کے لیے معقول شواہد ملے کہ امریکی افواج نے میناب شہر کے شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پر حملہ کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق حملے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 120 بچے شامل تھے۔ مشن نے حملے کو شہریوں کی ہلاکت اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچانے والا جنگی جرم قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق اسکول پاسداران انقلاب کے ایک کمپلیکس کے قریب واقع تھا۔ ماہرین نے کہا کہ امریکی فوج کی جانب سے ہدف سے متعلق معلومات اپ ڈیٹ نہ کرنا اور حملے سے قبل یہ مناسب طور پر تصدیق نہ کرنا کہ عمارت فوجی ہدف ہے، ایسی لاپرواہی تھی جس کے نتیجے میں ایک شہری عمارت کو نشانہ بننے کا نمایاں خطرہ موجود تھا۔ مشن کے مطابق اسے اسکول کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

فیکٹ فائنڈنگ مشن نے لامرد کے ایک اسپورٹس سینٹر پر ہونے والے حملے کو بھی جنگی جرم قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک اسکول کو نقصان پہنچا جبکہ 22 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے مارچ میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے اس روز لامرد پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔

دوسری جانب رپورٹ میں ایرانی حکومت کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ مشن کے مطابق گزشتہ برس دسمبر سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایرانی حکام نے شہریوں کے خلاف منظم کارروائیاں کیں، جن میں ہلاکتیں، تشدد، من مانی گرفتاریاں اور دیگر اقدامات شامل ہیں، اور یہ کارروائیاں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

امریکی حکام اس سے قبل کہتے رہے ہیں کہ ان کی فوجی کارروائیاں مسلح تصادم کے قوانین کے مطابق ہوتی ہیں، جبکہ ایران انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے الزامات مسترد کرتا رہا ہے۔ رپورٹ کے نتائج اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button