latest newssci&tech

23 ستمبر کو اعتدالِ خریفی کا آغاز، دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہو جائے گا

لاہور: ہر سال ستمبر میں شمالی نصف کرے میں موسمِ خزاں جبکہ جنوبی نصف کرے میں موسمِ بہار کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سال اعتدالِ خریفی (September Equinox) 23 ستمبر کو ہوگا، جس کے موقع پر سورج خطِ استوا کے عین اوپر ہوگا۔

اعتدالِ خریفی کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر حصوں میں دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہوجاتا ہے۔ اس موقع پر سورج تقریباً عین مشرق سے طلوع اور عین مغرب میں غروب ہوتا ہے، جسے ایک اہم فلکیاتی مظہر سمجھا جاتا ہے۔

خطِ استوا زمین کے درمیان سے گزرنے والی ایک فرضی لکیر ہے جو کرۂ ارض کو شمالی اور جنوبی نصف کرے میں تقسیم کرتی ہے۔ اعتدالِ خریفی سے قبل سورج شمال مشرق کی سمت سے طلوع ہوتا ہے جبکہ اس کے بعد طلوعِ آفتاب کی سمت بتدریج جنوب مشرق کی جانب منتقل ہونے لگتی ہے۔

زمین کا سورج کے گرد مدار میں اپنے محور پر جھکا ہونا موسموں کی تبدیلی کی بنیادی وجہ ہے۔ سال کے مختلف اوقات میں سورج کی روشنی شمالی اور جنوبی نصف کرے پر مختلف زاویوں سے پڑتی ہے، جس کے نتیجے میں دن اور رات کے دورانیے میں فرق پیدا ہوتا ہے۔

ستمبر کے اعتدال کے بعد شمالی نصف کرے میں دن کا دورانیہ کم جبکہ راتیں طویل ہونا شروع ہوجاتی ہیں، جبکہ جنوبی نصف کرے میں اس کے برعکس دن طویل اور راتیں مختصر ہونے لگتی ہیں۔ مارچ میں اعتدالِ ربیعی کے موقع پر بھی دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہوتا ہے۔

جون میں Summer Solstice اور دسمبر میں Winter Solstice واقع ہوتا ہے۔ جون کا انقلابِ شمسی شمالی نصف کرے میں سال کے طویل ترین دن جبکہ دسمبر کا انقلابِ شمسی مختصر ترین دن کے ساتھ منسلک ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button