سرکاری تشہیر پر توہین عدالت کی درخواست، لاہور ہائیکورٹ کا درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ
رپورٹ: مبشرحسن

لاہور ہائیکورٹ میں سرکاری خزانے سے تشہیر کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے حقائق کے برعکس بے بنیاد درخواست دائر کرنے اور عدالتی وقت ضائع کرنے پر درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کردیا۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کروائیں، اس کے بعد درخواست سنی جائے گی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق عدالت عظمیٰ نے سرکاری خزانے سے ذاتی تشہیر کو غیر قانونی قرار دیا تھا، تاہم گزشتہ دو سال چھ ماہ سے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔
درخواست گزار نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود پنجاب اسمبلی میں سرکاری تشہیر سے متعلق قانون سازی کی گئی، جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے سرکاری عہدے پر نہ ہونے کے باوجود مختلف منصوبوں پر ان کی تصاویر لگائی جارہی ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق چیف سیکریٹری بھی عدالتی فیصلے کے باوجود فنڈز جاری کر رہے ہیں۔
درخواست گزار نے استدعا کی کہ چیف سیکریٹری، وزیراعلیٰ پنجاب اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
چیف جسٹس نے سماعت کے دوران درخواست گزار سے استفسار کیا کہ جس حکم کی توہین کا الزام لگایا جارہا ہے، اس سے متعلق درخواست کہاں ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیس دائر کرتے وقت تمام حقائق اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر درخواست دائر کی جاتی ہے۔



