column and articlelatest news

ادبِ ایشیا کے نوبیل چراغ: شموئیل یوسف اگنون: روایت، یادداشت اور بدلتی ہوئی دنیا

خالدمنصور

ادب کبھی صرف لفظوں کی ترتیب نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ ایک ایسی دنیا کا سراغ بن جاتا ہے جو حقیقت میں کہیں پیچھے رہ گئی ہو۔ شہر اجڑ جاتے ہیں، گلیاں بدل جاتی ہیں، گھر خاموش ہوجاتے ہیں، لوگ ہجرت کر جاتے ہیں، مگر ان کی آوازیں کسی بڑے ادیب کی تحریر میں محفوظ رہتی ہیں۔

شموئیل یوسف اگنون بھی ایسے ہی ادیب تھے۔ ان کے ہاں ماضی محض گزر جانے والا زمانہ نہیں بلکہ ایک زندہ وجود ہے جو حال کے ساتھ چلتا، سوال کرتا اور کبھی کبھی انسان کے دروازے پر دستک دیتا رہتا ہے۔یہودی روایت، مذہبی حافظہ، ہجرت، شناخت، گھر سے جدائی اور بدلتی ہوئی دنیا، اگنون کے ادب کی یہی وہ دنیا ہے جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔

1966 ء میں اگنون کو ادب کا نوبیل انعام جرمن شاعرہ نَیلی ساکس کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ نوبیل کمیٹی نے ان کے فن میں جدید عبرانی ادب کے اندر یہودی قوم کی زندگی سے جڑی ایک منفرد اور مؤثر بیانیہ روایت کو سراہا۔ لیکن اگنون کی اصل عظمت کسی اعزاز میں نہیں، اس دنیا کو لفظوں میں محفوظ کرنے میں ہے جو ان کی آنکھوں کے سامنے بدل رہی تھی اور جس کا ایک بڑا حصہ تاریخ کے ہنگاموں میں ہمیشہ کے لیے گم ہوجانے والا تھا۔

1888 ء میں بُچَچ میں پیدا ہونے والے اگنون کا اصل نام شموئیل یوسف چَچکس تھا۔ اس وقت بُچَچ آسٹرو ہنگیرین سلطنت کا حصہ تھا اور آج یوکرین میں واقع ہے۔ ان کا بچپن ایسے یہودی ماحول میں گزرا جہاں مذہب محض عبادت کا معاملہ نہیں تھا بلکہ روزمرہ زندگی، خاندان، قصے، تہوار، زبان اور اجتماعی یادداشت کا حصہ تھا۔ یہی ماحول بعد میں ان کی تخلیقی دنیا کی بنیاد بنا۔

1908 ء میں وہ فلسطین پہنچے۔ بعد میں جرمنی گئے اور کئی برس وہاں گزارے۔ 1924ء میں دوبارہ فلسطین واپس آئے اور یروشلم کے قریب تلمی ٹِکو میں سکونت اختیار کی۔یوں ان کی زندگی خود ایک سفر بن گئی، یورپ سے فلسطین، ماضی سے حال، ایک تہذیبی دنیا سے دوسری دنیا تک۔ شاید اسی لیے ان کے کردار بھی ہمیشہ کسی نہ کسی سفر میں دکھائی دیتے ہیں۔ وہ جگہ بدلتے ہیں، مگر اپنے اندر ایک پوری دنیا اٹھائے پھرتے ہیں۔

اگنون کے ہاں ماضی کبھی دفن نہیں ہوتا۔ وہ پرانے شہروں، مذہبی روایات، یہودی قصوں، خاندانوں، ہجرتوں اور جنگوں کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے یہ سب ابھی کہیں ہمارے آس پاس موجود ہوں۔ان کے کردار اپنے ذاتی دکھ اور خوشی کے ساتھ ساتھ صدیوں کی تہذیبی یادداشت بھی اپنے اندر لیے ہوئے ہیں۔ ان کی تنہائی صرف ایک فرد کی تنہائی نہیں؛ اس کے پیچھے ایک بکھرتی ہوئی دنیا کی خاموشی بھی سنائی دیتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اگنون کا ادب محض یہودی تاریخ کا بیان نہیں رہتا بلکہ انسان کے ایک بنیادی تجربے سے جڑ جاتا ہے: جب دنیا بدل جائے تو انسان اپنے اندر کیا محفوظ رکھتا ہے؟

The Bridal Canopy، اگنون کی معروف تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے مرکز میں رَبی یودیل ہے، ایک غریب یہودی شخص جو اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے مناسب رشتے تلاش کرنے نکلتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا مقصد ہے، مگر اگنون کے ہاں ایک معمولی سفر بھی پوری تہذیب کی داستان بن جاتا ہے۔

رَبی یودیل مختلف علاقوں سے گزرتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، قصے سنتا ہے اور ایسے معاشرے کی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے جہاں مذہب، خاندان، غربت، خیرات، شادی اور روزمرہ زندگی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ناول کی فضا میں ایک خاص طرح کا مزاح بھی ہے۔ اگنون مذہبی سنجیدگی کو انسانی کمزوریوں اور روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی مسرتوں کے ساتھ اس طرح جوڑتے ہیں کہ روایت بوجھ نہیں بنتی بلکہ زندگی کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔

مگر اس ہنسی کے پیچھے ایک گہری اداسی بھی چھپی ہے۔ رَبی یودیل جن شہروں اور بستیوں سے گزرتا ہے، وہ صرف کہانی کے مقامات نہیں۔ وہ ایک ایسی تہذیب کے نقش ہیں جو آنے والے وقت میں جنگوں، ہجرتوں اور تاریخی تغیرات کے ہاتھوں بکھرنے والی تھی۔ یوں یہ سفر رشتوں کی تلاش سے بڑھ کر ایک گم ہوتی ہوئی دنیا کی ادبی بازیافت بن جاتا ہے۔

اگنون کے ہاں سفر صرف راستہ طے کرنا نہیں، ان کے کردار جب ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہیں تو اپنے ساتھ اپنی یادیں، عقیدے، خوف، زبان اور شناخت بھی لے جاتے ہیں۔ اسی لیے The Bridal Canopy میں سفر ایک ادبی استعارہ بن جاتا ہے۔ ایک شخص اپنی منزل تلاش کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک تہذیب بھی سفر کرتی ہے۔یہاں شادی صرف دو افراد کا رشتہ نہیں بلکہ روایت کے تسلسل کی علامت ہے، جبکہ سفر محض جغرافیہ بدلنے کا عمل نہیں بلکہ ایک پوری تہذیبی دنیا کی نقل و حرکت ہے۔

اگر The Bridal Canopy میں سفر زندگی سے ملاقات ہے تو A Guest for the Night میں واپسی یادداشت سے ملاقات بن جاتی ہے۔ناول کا راوی کئی برس بعد اپنے آبائی شہر واپس آتا ہے۔ مگر جس شہر کو اس نے اپنی یادوں میں محفوظ کر رکھا تھا، حقیقت میں وہ شہر باقی نہیں رہا۔گلیاں موجود ہیں، عمارتیں موجود ہیں، مگر وہ زندگی کہاں ہے؟جنگوں اور تاریخی تغیرات نے شہر کے انسانی وجود کو بدل دیا ہے۔ راوی اپنے ماضی کے درمیان کھڑا ہے، مگر اسے اپنا ماضی مکمل صورت میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

یہاں گھر ایک گہری علامت بن جاتا ہے۔ گھر صرف دیواریں اور چھت نہیں۔ گھر خاندان ہے، زبان ہے، مذہب ہے، بچپن ہے، تعلق ہے اور وہ احساس ہے جس کے ذریعے انسان خود کو کسی جگہ سے وابستہ محسوس کرتا ہے۔ جب گھر چھوٹ جائے تو انسان صرف جگہ نہیں کھوتا، کبھی کبھی وہ اپنی شناخت کا ایک حصہ بھی کھو دیتا ہے۔

A Guest for the Night کا بنیادی دکھ شاید یہی ہے کہ انسان ماضی کی طرف واپس تو جاسکتا ہے، مگر ماضی میں واپس نہیں جاسکتا، پرانے راستے مل سکتے ہیں، مگر پرانے لوگ نہیں، دروازے باقی رہ سکتے ہیں، مگر ان گھروں کی آوازیں نہیں، یادداشت انسان کو واپس لے جاتی ہے، مگر تاریخ اسے بتاتی ہے کہ وہ دنیا گزر چکی ہے۔

اگنون اسی فاصلے کو ادب میں بدل دیتے ہیں۔ ان کا راوی اپنے شہر کی تلاش میں دراصل اپنے آپ کو تلاش کررہا ہوتا ہے اور اس تلاش کے پیچھے صرف ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ ہجرت، جلاوطنی اور بکھرتی ہوئی یہودی دنیا کا اجتماعی تجربہ موجود ہے۔

اگنون کی ایک اور اہم تخلیق A City and the Fullness Thereof ہے، جس کا مرکز بھی ان کا آبائی شہر بُچَچ ہے لیکن یہ وہ بُچَچ نہیں جو کسی نقشے پر تلاش کیا جاسکتا ہے۔ یہ یادداشت کا شہر ہے۔ یہاں گلیاں لوگوں کی کہانیوں سے بنتی ہیں، گھر خاندانوں کی یادوں سے اور شہر مذہبی روایات، قصوں اور انسانی رشتوں سے۔

کتاب روایتی معنوں میں ایک مسلسل پلاٹ والا ناول نہیں۔ مختلف کردار، واقعات، قصے اور یادیں ایک دوسرے میں یوں پیوست ہو جاتے ہیں جیسے کسی پرانی بستی میں ہر گھر کے اندر ایک الگ داستان آباد ہو۔یہودی شہری زندگی کی کئی نسلیں یہاں اپنے دکھ، خوشی، غربت، عقیدے، محبت اور روزمرہ تجربات کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ اگنون نے بُچَچ کو صرف یاد نہیں کیا، انہوں نے اسے ادب میں دوبارہ آباد کردیا۔

کسی شہر کا مٹ جانا صرف عمارتوں کا مٹ جانا نہیں ہوتا۔ شہر دراصل ان لوگوں کی یادوں سے بنتا ہے جو وہاں رہتے ہیں۔ جب لوگ منتشر ہوجائیں، جب گھر خالی ہوجائیں اور جب پرانی آوازیں خاموش ہو جائیں تو شہر کی ایک پوری تہذیبی روح بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ A City and the Fullness Thereof میں اگنون اسی روح کو محفوظ کرتے ہیں۔

تاریخ یہاں داستان سے ملتی ہے، مذہبی روایت لوک کہانی سے، اور ذاتی یاد اجتماعی حافظے سے۔ یہی اگنون کا کمال ہے کہ وہ ماضی کو محض محفوظ نہیں کرتے بلکہ اسے دوبارہ قابلِ سماعت بنا دیتے ہیں۔

اگنون کے فن کا ایک اہم پہلو ان کی زبان ہے۔ انہوں نے جدید عبرانی کو بائبل، تلمودی روایت، مذہبی متون اور مشرقی یورپ کی یہودی زندگی کی لسانی یادداشت سے جوڑا۔ ان کی نثر میں ایک طرف قدیم متون کی گونج ہے تو دوسری طرف روزمرہ زندگی کا مزاح، انسانی کمزوریاں اور معمولی زندگی کی جزئیات۔

ان کے ہاں کہانی ہمیشہ سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ ایک قصے سے دوسرا قصہ نکلتا ہے، ایک یاد دوسری یاد کو جگاتی ہے اور ایک روایت کے اندر سے دوسری روایت جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگنون کو پڑھنا کبھی کبھی کسی پرانی داستان سننے جیسا محسوس ہوتا ہے، ایسی داستان جس میں راوی بھی مکمل طور پر ماضی سے باہر نہیں نکلا۔

1966ء میں نوبیل انعام ملنا اگنون کے لیے محض ذاتی اعزاز نہیں تھا۔ یہ جدید عبرانی ادب کی عالمی شناخت کا بھی اہم لمحہ تھا۔ انہوں نے ایک مخصوص تاریخی اور تہذیبی دنیا کو عالمی ادب کے وسیع منظرنامے میں جگہ دی۔ ان کی کہانیاں مشرقی یورپ کے یہودی شہروں سے نکلتی ہیں، مگر ان کے سوالات کہیں زیادہ وسیع ہیں:

گھر کیا ہے؟ انسان اپنی شناخت کہاں سے حاصل کرتا ہے؟ ماضی انسان کے ساتھ کہاں تک سفر کرتا ہے؟ اور جب دنیا بدل جائے تو روایت خود کو کس طرح زندہ رکھتی ہے؟ یہ سوالات کسی ایک مذہب، قوم یا خطے تک محدود نہیں۔

آج جب دنیا مسلسل ہجرت، نقل مکانی، ثقافتی تبدیلی اور شناخت کے بحرانوں سے گزر رہی ہے، اگنون کا ادب ایک نئے معنی کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے۔ان کے ہاں انسان نئی جگہ آباد ہو جاتا ہے، مگر پرانی جگہ اس کے اندر آباد رہتی ہے۔ وہ نئی زبان سیکھ سکتا ہے، مگر پرانی آوازیں نہیں بھولتا۔ وہ نئے گھر میں رہ سکتا ہے، مگر پرانے گھر کی کھڑکی کبھی کبھی اس کی یاد میں کھل جاتی ہے۔

اگنون ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تہذیب صرف بادشاہوں، جنگوں اور بڑے تاریخی واقعات سے نہیں بنتی۔ تہذیب ان چھوٹی کہانیوں سے بھی تشکیل پاتی ہے جو گھروں، گلیوں، عبادت گاہوں، خاندانوں اور لوگوں کی یادوں میں زندہ رہتی ہیں۔ شاید اسی لیے اگنون کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی ایسے شہر میں داخل ہو گئے ہیں جو جغرافیے سے مٹ چکا ہے، مگر ادب نے اسے محفوظ کر لیا ہے۔

ہم اس کی گلیوں میں چل سکتے ہیں، اس کے لوگوں سے مل سکتے ہیں، ان کے قصے سن سکتے ہیں اور ان خاموشیوں کو بھی محسوس کرسکتے ہیں جو تاریخ نے اپنے پیچھے چھوڑ دی ہیں۔ یہی ایک بڑے ادیب کا شاید سب سے بڑا کارنامہ ہے کہ وہ گزرے ہوئے وقت کو واپس نہیں لا سکتا، مگر اسے لفظوں میں اس طرح محفوظ کر سکتا ہے کہ آنے والی نسلیں اس کی گلیوں میں چل سکیں۔

شموئیل یوسف اگنون کا ادب اسی محفوظ کی ہوئی دنیا کا نام ہے، ایک ایسی دنیا جہاں روایت اور جدیدیت، ماضی اور حال، ہجرت اور گھر، مذہب اور انسانی زندگی مسلسل ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں۔ اگنون کی پوری ادبی کائنات کو ایک جملے میں یوں سمیٹا جاسکتا ہے۔

کچھ شہر نقشے سے مٹ جاتے ہیں، مگر بڑے ادیب انہیں انسان کی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے آباد کردیتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button