ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو 40 ہزار 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم دینے کا فیصلہ

ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی ہزاروں بموں کی تیاری شروع کردی، جسے حالیہ برسوں میں اس نوعیت کی سب سے بڑی ڈیل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ 2.8 ارب ڈالر کے دفاعی پیکیج میں 40 ہزار 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم شامل ہیں۔ ان میں 20 ہزار MK-84 اور 20 ہزار BLU-117 بم جبکہ 20 ہزار I-2000 پینیٹریٹر وار ہیڈز بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق MK-84 کو مغربی ممالک کے فوجی ہتھیاروں میں انتہائی تباہ کن بم سمجھا جاتا ہے، جو دھماکے کے نتیجے میں دور تک دھاتی ٹکڑے پھیلانے کے ساتھ دھات اور سخت کنکریٹ کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس پیکیج کا حجم بائیڈن اور ٹرمپ انتظامیہ کے دوران اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی ہتھیاروں کی فروخت کے سابقہ معاہدوں سے بھی زیادہ ہے۔
اسرائیل غزہ اور لبنان میں متعدد مواقع پر ایسے بھاری بم استعمال کرچکا ہے، جبکہ غزہ میں شہریوں کے لیے محفوظ قرار دیے گئے علاقوں میں بھی MK-84 بموں کے استعمال پر اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے دوران شہری ہلاکتوں کے خدشات کے پیش نظر بائیڈن انتظامیہ نے ماضی میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی ایک کھیپ اسرائیل کو بھیجنے سے روک دی تھی۔



