column and articlelatest news

پروفیسرناصر بشیر کی صدارت میں حلقہ ارباب ذوق کا تنقیدی اجلاس

نظم،افسانہ اورغزل کامیاب قرار،حلقہ کا 87سالہ جشن 20ستمبر کو قائد اعظم لائبریری میں منایا جائیگا

لاہور(شہزاد فراموش) حلقہ ارباب ذوق کا اجلاس پروفیسر ناصر بشیر کی صدارت میں پاک ٹی ہاؤس میں ہوا۔جوائنٹ سیکرٹری شہزاد فراموش نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھی، توثیق کے بعد حمزہ علی رانا نے غزل تنقید کیلئے پیش کی۔

صدارتی رائے دیتے ہوئے ناصر بشیر نے کہا کہ غزل کے دو شعروں میں ”نے“ کے بجائے”کو“ آنا چاہئے تھا،باقی غزل بہتر ہے۔عثمان امجد بھٹی نے افسانہ ”محبت لوٹ آتی ہے“ پڑھا۔صاحب صدارت نے رائے دی کہ افسانہ نگار کا مزاج شاعرانہ ہے، اس میں شہری بیگانگی کا ذکر آیا جو اصل میں خانگی بیگانگی ہے۔ ان کے اسلوب میں شعریت ہے، ان کا افسانہ بہت کامیاب ہے۔

نوید مرزاکی نظم ”ایک دفعہ کا ذکر ہے“ پر صاحب صدارت نے کہا کہ شاعر کی نظم کے اندر غزل کا ذائقہ ملتا ہے، مجھے یہ نظم بہت اچھی لگی مگر مختصر تھی اسلئے تشنگی کا احساس ہوا۔ اختتام پر سابق سیکرٹری حلقہ امجد طفیل کی والدہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور دعائے مغفرت کی گئی۔

سیکرٹری حلقہ آفتاب جاوید نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اعلان کیا کہ حلقہ کا 87سالہ جشن قائد اعظم لائبریری میں 20ستمبر کو 4 بجے منایا جا رہا ہے جس میں سابق سیکرٹریز اور جوائنٹ سیکرٹریز بھی شریک ہونگے۔

تقریب میں مستنصر حسین تارڑ، یونس جاوید اور اصغر ندیم سید بھی تشریف لارہے ہیں، احباب بھی تشریف لائیں۔ حلقہ کی روایت کے مطابق صاحب صدارت نے اپنی شاعری بھی سنائی۔اجلاس میں شریک ہونے والوں کی تعداد 70رہی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button