latest news

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات سماعت اور فیصلے

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ایس پی احمد ناصر عزیز ورک کی پرفارما پروموشن کی درخواست پر وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو 21 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے عدالتی حکم کو چیلنج کرنے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ کیوں نہ متفرق درخواست کو بھاری جرمانے کے ساتھ خارج کردیا جائے،عدالت نے ریمارکس دیئےکہ عدالت میں کوئی اور پیش ہوتا ہے اور بیان حلفی کسی اور کا آجاتا ہے، جبکہ عدالت میں دئیے گئے بیان اور بیان حلفی میں تضاد ہے،عدالت نےاستفسار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے عبوری حکم کو کس طرح چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے فیڈرل سروس ٹربیونل کے دو اگست دو ہزار چوبیس کے حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا؟

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے پراپرٹی ٹربیونلز کے ابتدائی احکامات کے خلاف دائر درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پراپرٹی ٹربیونلز فعال ہوچکے ہیں انہوں نے قانون کے مطابق کام شروع کردیا ہے، پراپرٹی ٹربیونلز کے احکامات قانون کے مطابق ہیں، وکیل پنجاب حکومت نے موقف اپنایا کہ ٹربیونلز کے حتمی فیصلے کے خلاف اپیلیں نہیں ہیں ابتدائی فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے محفوظ فیصلہ سنا تے ہوئےمن پسند بیورو کریٹس، وزراء کو سول ایوارڈز دینے کیخلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ من پسند افراد کو سول ایوارڈز دینے کیلئے آئین میں ترمیم کی گئی، حکومت نے سرکاری خزانے سے مراعات لینے والے بیوروکریٹس، وزراء، میڈیا مالکان اور مولویوں کی ایوارڈز کیلئے نامزدگی غیر آئینی ہے ۔

لاہورہائیکورٹ کےجسٹس سردار علی اکبر ڈوگر نےسیالکوٹ سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے مبشر اعوان کی نظر بندی کے خلاف درخواست غیر ضروری قرار دیتے ہوئے نمٹا دی،عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ براہ راست عدالت آگئے، آپکو پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منور اقبال دوگل نے 18 کروڑ روپے کی ادائیگی سے متعلق ثالثی ایوارڈ کیخلاف درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی، عدالت نے قرار دیا کہ فریقین کی رضامندی سے ہونے والے ثالثی فیصلے کو براہِ راست آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جاسکتا، ثالثی ایوارڈ کے خلاف قانون میں متبادل قانونی راستہ موجود ہے، درخواست گزار نے خود ڈویژن بینچ کے سامنے سیکرٹری خزانہ پنجاب کو ثالث تسلیم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور ثالثی کی کارروائی میں بھی حصہ لیا، جو فریق خود ثالثی پر رضامند ہو اور ثالثی کارروائی میں حصہ لے، وہ فیصلہ اپنے خلاف آنے کے بعد براہِ راست ہائیکورٹ کے آئینی دائرہ اختیار سے رجوع نہیں کرسکتا، درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ثالثی ایوارڈ کے تحت 18 کروڑ روپے کی ادائیگی سے متعلق فیصلہ کیا گیا، جسے وہ ہائیکورٹ کے آئینی دائرہ اختیار میں چیلنج کرنا چاہتا ہے، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عثمان خان نےموقف اپنایا کہ سول کورٹ میں پہلے ہی کارروائی زیرِ التوا ہے اور ایوارڈ کو رول آف دی کورٹ بنانے کی کارروائی جاری ہے، جس میں فریقین کو نوٹسز بھی جاری ہوچکے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر کی سربراہی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سرکاری ملازمین کی پنشن سے متعلق پنجاب حکومت کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ برقرار رکھا،عدالت نے قرار دیا ہے کہ مسلسل پانچ سال کنٹریکٹ سروس کے بعد ریگولر ہونے والے ملازم کی کنٹریکٹ سروس بھی پنشن کے لیے شمار کی جائے گی، فیصلے میں قرار دیاگیا ہے کہ پانچ سال مسلسل کنٹریکٹ کی سروس اور ریگولر ہونے کے بعد پانچ سال کی سروس والا سرکاری ملازم پینشن کا حق دار ہے،عدالت نے فوت ہونے والے ملازم کی بیوہ کنیزہ فاطمہ کو پینشن دیگر مراعات دینے کا حکم برقرار رکھا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نےدو سال سے لاپتہ شہری سے متعلق رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو2 اکتوبر تک شہری کی بازیابی یقینی بنانے کا حکم دیدیا،عدالت نے آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،درخواست گزار محمد عثمان نے 10 دسمبر 2024 کو اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے کمسن بچے کو دادی سے لے کر ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا،عدالتی حکم کے بعد بچے کی دادی جذباتی ہو گئیں اور عدالت میں دہائیاں دیتی رہیں،جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے خاتون کو عدالت عالیہ سے روانہ کر دیا۔

سپیشل سینٹرل عدالت نےایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی،ملزمان کی بریت کی درخواست پر دلائل 17 نومبر کوطلب کر لئے،ایف آئی اے لاہور کی جانب سے مقدمے کا چالان پہلے ہی عدالت میں جمع کروایا جا چکا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button