عبدالقادر: لیگ سپن کا جادوگر، جس نے دنیا کو حیران کردیا
خالد منصور

آج پاکستان کے عظیم لیگ سپنر عبدالقادر کی 81 ویں سالگرہ ہے۔ 15 ستمبر 1955 کو لاہور میں پیدا ہونے والے عبدالقادر نے اپنی جادوئی لیگ سپن، گوگلی اور فلپر کے ذریعے نہ صرف پاکستانی کرکٹ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا بلکہ دنیا بھر میں لیگ سپن کو دوبارہ مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں بعض کھلاڑی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے صرف ریکارڈ نہیں بنائے بلکہ کھیل کے انداز ہی کو بدل ڈالا، عبدالقادر بھی انہی عظیم کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اپنی باؤنسی رن اپ، گیند کو انگلیوں میں گھماتے ہوئے مخصوص انداز، پُرجوش اپیلوں اور جادوئی گوگلی کے باعث وہ کرکٹ کے میدان میں ایک منفرد شخصیت بن گئے تھے۔
عبدالقادر نے ایسے دور میں کرکٹ میں قدم رکھا جب تیز گیند بازوں کا غلبہ تھا اور لیگ سپن کو نسبتاً کم اہمیت حاصل تھی۔ عبدالقادر نے اس مشکل فن کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے جارحانہ اور پُرکشش انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی انہیں اس فن کا احیا کرنے والے عظیم کھلاڑیوں میں شمار کرتا ہے۔

عبدالقادر کا بچپن لاہور کے علاقے دھرم پورہ میں گزرا۔ محدود وسائل کے باوجود ان کی کرکٹ سے محبت کم نہ ہوئی۔ ابتدا میں وہ بیٹنگ اور فاسٹ بولنگ بھی کرتے تھے، لیکن نیٹ پریکٹس کے دوران ان کی اصل صلاحیت لیگ اسپن کے طور پر سامنے آئی۔ وہ گیند کے ساتھ نت نئے تجربات کرتے اور اس کے مختلف انداز میں گھومنے کا مشاہدہ کرتے تھے۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھنے کے بعد ان کی صلاحیتیں تیزی سے نکھرنے لگیں اور بالآخر انہیں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔ عبدالقادر نے 14 دسمبر 1977 کو لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ پہلے ٹیسٹ میں انہیں زیادہ کامیابی نہ ملی، لیکن دوسرے ہی ٹیسٹ میں انہوں نے حیدرآباد میں انگلینڈ کے خلاف 44 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔
عبدالقادر کے کیریئر میں عمران خان کا کردار بھی انتہائی اہم رہا۔ عمران خان نے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا اور انہیں ایک جارحانہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ 1982 کے دورہ انگلینڈ میں عبدالقادر نے لارڈز میں پاکستان کی تاریخی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا اور میچ میں 6 وکٹیں حاصل کیں۔
اسی سال آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی ہوم سیریز میں بھی عبدالقادر نے شاندار کارکردگی دکھائی اور فیصل آباد ٹیسٹ میں 11 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ سیریز پاکستان نے 3-0 سے جیتی اور عبدالقادر کی بولنگ اس کامیابی کا اہم حصہ تھی۔عبدالقادر کی سب سے بڑی خوبی ان کا گیند پر غیر معمولی کنٹرول تھا۔ روایتی لیگ بریک کے ساتھ وہ گوگلی، ٹاپ سپنر اور فلپر بھی انتہائی مہارت سے کراتے تھے۔

ان کا انداز صرف تکنیکی طور پر مؤثر نہیں تھا بلکہ دیکھنے والوں کے لیے بھی ایک مکمل تماشہ ہوتا تھا۔ ان کا ڈانسنگ رن اپ، گیند کو ہاتھ میں گھمانا، مخصوص ایکشن اور وکٹ حاصل کرنے کے بعد پُرجوش اپیلیں انہیں اپنے عہد کے دوسرے سپنرز سے بالکل منفرد بناتی تھیں۔ وسڈن نے بھی انہیں لیگ اسپن کے فن کو جدید دور میں دوبارہ زندہ کرنے والی شخصیت قرار دیا۔
عبدالقادر کا انگلینڈ کے خلاف ریکارڈ غیر معمولی تھا۔ اپنے بین الاقوامی کیریئر میں انہوں نے انگلینڈ کے خلاف 82 وکٹیں حاصل کیں۔1987 میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف ان کی 9 وکٹیں 56 رنز کے عوض کارکردگی ان کے کیریئر کی سب سے یادگار بولنگ ثابت ہوئی۔ یہ آج بھی ٹیسٹ اننگز میں کسی پاکستانی بولر کی بہترین انفرادی بولنگ پرفارمنسز میں شمار ہوتی ہے۔ اسی دور میں انگلینڈ کے دورے کے دوران بھی عبدالقادر نے شاندار بولنگ کی اور سیریز میں پاکستان کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
1986 میں فیصل آباد ٹیسٹ میں دنیا کی اس وقت کی طاقتور ترین ٹیموں میں شمار ہونے والی ویسٹ انڈیز کے خلاف عبدالقادر نے صرف 16 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔ان کی تباہ کن بولنگ کے نتیجے میں ویسٹ انڈیز صرف 53 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان نے یہ ٹیسٹ 186 رنز سے جیتا۔ عبدالقادر کی یہ کارکردگی ان کے کیریئر کے یادگار ترین لمحات میں شامل ہے۔
عبدالقادر نے پاکستان کی جانب سے 67 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 236 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی اوسط 32.80 رہی اور انہوں نے 15 مرتبہ ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ 5 مرتبہ ایک ٹیسٹ میں 10 یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ان کی بہترین انفرادی بولنگ 9 وکٹیں 56 رنز تھی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 1,029 رنز بھی بنائے اور تین نصف سنچریاں اسکور کیں۔

عبدالقادر نے 1983 کے ورلڈ کپ کے دوران ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے 104 ون ڈے میچز میں 132 وکٹیں حاصل کیں۔وہ اس زمانے میں ایک روزہ کرکٹ میں بھی جارحانہ اسپن بولنگ کا مؤثر ہتھیار تھے۔ 1983 کے ورلڈ کپ میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی اور انہوں نے سری لنکا کے خلاف 5 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ 1987 کے ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک اہم میچ میں انہوں نے آخری اوور میں 13 رنز بنا کر پاکستان کو سنسنی خیز کامیابی دلانے میں بھی کردار ادا کیا۔
عبدالقادر کا اثر صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا۔ ان کی بولنگ نے دنیا بھر کے نوجوان سپنرز کو متاثر کیا۔ آسٹریلیا کے عظیم لیگ سپنر شین وارن نے بھی عبدالقادر کو اپنے ابتدائی کرکٹ ہیروز میں شمار کیا۔1990 کی دہائی میں شین وارن کی عبدالقادر سے ملاقات بھی ہوئی، جس میں دونوں نے کرکٹ اور لیگ سپن کے فن پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت تھا کہ عبدالقادر کی مہارت نے دنیا کے بہترین سپنرز کو بھی متاثر کیا تھا۔
عبدالقادر نے ایک ایسے وقت میں لیگ سپن کو زندہ رکھا جب یہ فن عالمی کرکٹ میں تقریباً ناپید ہوتا جارہا تھا۔ بعد میں مشتاق احمد، شین وارن اور دیگر لیگ اسپنرز کے عروج نے اس فن کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، مگر اس روایت کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے والوں میں عبدالقادر کا نام ہمیشہ نمایاں رہے گا۔
بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عبدالقادر کا کرکٹ سے تعلق ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے لاہور میں کرکٹ اکیڈمی چلائی اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کی۔ 2008-09 میں وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر بھی رہے۔ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ وہ اپنے فن کا علم نئی نسل تک منتقل کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ ان کے صاحبزادوں نے بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی اور ان کے چھوٹے بیٹے عثمان قادر نے پاکستان کی نمائندگی کی۔
عبدالقادر 6 ستمبر 2019 کو لاہور میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث 63 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کی وفات پاکستان سمیت دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ 2022 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں بعد از مرگ PCB Hall of Fame میں شامل کیا، اسی سال انہیں ICC Cricket Hall of Fame میں بھی شامل کیا گیا۔ یہ اعزاز اس بات کا اعتراف ہے کہ عبدالقادر کا اثر صرف پاکستانی کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ عالمی کرکٹ کی تاریخ میں بھی ان کا ایک مستقل مقام ہے۔
وہ صرف گیند باز نہیں تھے، ایک فنکار تھے۔ ان کی گوگلی میں حیرت، فلپر میں دھوکا، لیگ بریک میں فن اور اپیل میں جذبہ نظر آتا تھا۔ ان کا کھیل میدان میں کرکٹ سے بڑھ کر منظر پیش کرتا تھا۔
آج بھی جب دنیا کے بڑے لیگ سپنرز کا ذکر ہوتا ہے تو عبدالقادر کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ پاکستان نے انہیں ’’جادوگر‘‘ کہا، دنیا نے انہیں لیگ اسپن کا عظیم فنکار مانا، اور آنے والی نسلوں کے لیے ان کا سب سے بڑا ورثہ یہی ہے کہ اگر گیند کو انگلیوں پر گھمایا جائے تو وہ صرف گیند نہیں رہتی، فن بن جاتی ہے۔
عبدالقادر کا نام اسی فن کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گا۔



